دل گلی دیر تک اداس رہی
شاعری دیر تک اداس رہی
میں نے پھینکا نہ جھیل میں پتھر
جل پری دیر تک اداس رہی
اب کوئی بھی نہیں اندھیرے میں
روشنی دیر تک اداس رہی
میں بہت خوش ہوا اسے مل کر
وہ بڑی دیر تک اداس رہی
اتنے مانوس ہو گئے تھے ہاتھ
ہتھکڑی دیر تک اداس رہی
کوئی کافر گیا جہنم میں
خُلد بھی دیر تک اداس رہی
زندگی نے مجھے رکھا مصروف
خودکشی دیر تک اداس رہی
پھر اسے مسکراتے رہنا ہے
وہ تبھی دیر تک اداس رہی
کوئی گھر آ گیا تھا خالی ہاتھ
بے کسی دیر تک اداس رہی
اتنی بے تال زندگی کی لَے
راگنی دیر تک اداس رہی
مقداد احسن
No comments:
Post a Comment