Sunday, 6 December 2020

اب ہے سپاہ عشق کا مجھ پر حصار تنگ

 اب ہے سپاہِ عشق کا مجھ پر حصار تنگ

پڑتی دکھائی دیتی ہے راہِ فرار تنگ

اک بے کلی ہے ہونے نا ہونے کے درمیاں

بڑھنے لگا یقیں، تو ہوا اعتبار تنگ

اس وسعتِ خیال کی دولت کو کیا کروں

سوچیں وسیع تر ہیں، مگر اختیار تنگ

پانچ ایک لوگ حلقۂ یاراں میں ہیں مرے

اک آدھ سے میں تنگ ہوں اور مجھ سے چار تنگ

میں انتہائے کرب کے عالم میں ہنس پڑا

پھرتی ہے مجھ سے گردشِ لیل و نہار تنگ


وسیم حیدر جعفری

No comments:

Post a Comment