Sunday, 6 December 2020

درد کے بادباں میں رہتا ہوں

 درد کے بادباں میں رہتا ہوں

یعنی میں سائباں میں رہتا ہوں

اب مجھے خوف ہی نہیں کوئی

اب میں اپنے جہاں میں رہتا ہوں

ہاتھ پامال ہو گئے میرے

جانے کس کے گماں میں رہتا ہوں

بوسہ لیتی ہے آ کے بادِ صبا

جب ترے آستاں میں رہتا ہوں

مجھ کو حیرت میں ڈالنے والی

کیا میں تیرے نشاں میں رہتا ہوں

جس جہاں پہنچنا ہے نا ممکن

دیکھ میں اس جہاں میں رہتا ہوں

ہر کلی گل فشار لگتی ہے

جب میں تیرے مکاں میں رہتا ہوں

دل لگا کر ندیم جھوٹوں سے

سچ کہ میں باغباں میں رہتا ہوں


ندیم ملک

No comments:

Post a Comment