درد کے بادباں میں رہتا ہوں
یعنی میں سائباں میں رہتا ہوں
اب مجھے خوف ہی نہیں کوئی
اب میں اپنے جہاں میں رہتا ہوں
ہاتھ پامال ہو گئے میرے
جانے کس کے گماں میں رہتا ہوں
بوسہ لیتی ہے آ کے بادِ صبا
جب ترے آستاں میں رہتا ہوں
مجھ کو حیرت میں ڈالنے والی
کیا میں تیرے نشاں میں رہتا ہوں
جس جہاں پہنچنا ہے نا ممکن
دیکھ میں اس جہاں میں رہتا ہوں
ہر کلی گل فشار لگتی ہے
جب میں تیرے مکاں میں رہتا ہوں
دل لگا کر ندیم جھوٹوں سے
سچ کہ میں باغباں میں رہتا ہوں
ندیم ملک
No comments:
Post a Comment