Showing posts with label احمد فاخر. Show all posts
Showing posts with label احمد فاخر. Show all posts

Saturday, 10 July 2021

جلتا رہا چراغ یقین و گمان کا

 جلتا رہا چراغ یقین و گمان کا

لیکن ہُوا نہ دور اندھیرا مکان کا

گندم کی بالیوں سے بہت روشنی ہوئی

اس روشنی سے قرض نہ اُترا کسان کا

آنچل کسی کا تیز ہوا نے اُڑا دیا

کشتی سے رابطہ نہ رہا بادبان کا

Wednesday, 16 June 2021

مری حیات کے صحرا میں چھاؤں جیسا تھا

 مِری حیات کے صحرا میں چھاؤں جیسا تھا

عجیب شخص تھا ٹھنڈی ہواؤں جیسا تھا

کھِلا ہی رہتا تھا ہر دم گُلاب کی صورت

مزاج اس کا چمن کی فضاؤں جیسا تھا

اسی زمانے میں رہتا ہوں ہر زمانے میں

وہ جب بدن پہ گُلوں کی قباؤں جیسا تھا

Friday, 1 January 2021

اے شوق دل بھی ایک معما عجیب ہے

 اے شوق دل بھی ایک معما عجیب ہے

صحرا کو آندھیوں کی تمنا عجیب ہے

موجوں کے اضطراب نے دھڑکا دیا تھا دل

اترے جو ہم، اتر گیا دریا، عجیب ہے

دشوار ہو گئی ہے اب اپنی شناخت بھی

آئینہ کہہ رہا ہے کہ چہرہ عجیب ہے

Tuesday, 8 December 2020

اک عمر سے جس کو لیے پھرتا ہوں نظر میں

 اک عمر سے جس کو لیے پھرتا ہوں نظر میں 

وہ روپ ہے سورج میں نہ وہ رنگ سحر میں 

چلتی ہیں ہوائیں تو برس جاتی ہیں آنکھیں

چھائے ہیں تری یاد کے بادل مرے گھر میں

حیران ہوئے جاتے ہیں مجھے دیکھنے والے

آئینہ معلق ہے مرے دیدۂ تر میں

Monday, 7 December 2020

جس شخص کو دیکھو وہی سرگرم سفر ہے

 جس شخص کو دیکھو وہی سرگرم سفر ہے 

دنیا کہیں ویران نہ ہو جائے، یہ ڈر ہے 

لائے گی کبھی رنگ ہواؤں کی محبت 

ہم جس میں بسر کرتے ہیں وہ ریت کا گھر ہے 

صحرا میں کسی سائے کی امید نہ ٹوٹی 

حسرت کی نگاہوں میں بگولا بھی شجر ہے 

سیاہ رات پشیماں ہے ہمرکابی سے

 سیاہ رات پشیماں ہے ہم رکابی سے

وہ روشنی ہے ترے غم کی ماہتابی سے

صبا کے ہاتھ ہے اب عزت نگاہ مری

چمن مہکنے لگا گل کی بے حجابی سے

فرار ان سے ہے مشکل وہ دسترس میں نہیں

یہ زرد زرد سے موسم وہ دن گلابی سے

Sunday, 6 December 2020

سینے میں دل جو درد کا مارا نہیں ملا

 سینے میں دل جو درد کا مارا نہیں ملا

پھر آئینے میں عکس ہمارا نہیں ملا

میلے میں آ گئے تھے کہ شاید کوئی ملے

اس بھیڑ میں بھی کوئی ہمارا نہیں ملا

ہر چند اک ہجوم تھا آنکھوں کا ہر طرف

لیکن کسی نظر کا سہارا نہیں ملا

Saturday, 5 December 2020

آنکھوں میں اس کی ڈوب کے ابھرا نہیں ہوں میں

 آنکھوں میں اس کی ڈوب کے ابھرا نہیں ہوں میں

جس نے بھلا دیا اسے بھولا نہیں ہوں میں

اب لمحہ لمحہ اپنے بکھرنے کا خوف ہے

غنچے کی طرح بند ہوں کھلتا نہیں ہوں میں

پیچھے پلٹ  کے دیکھا تو پرچھائیں بھی نہ تھی

سوچا تھا راہِ شوق میں تنہا نہیں ہوں میں