جلتا رہا چراغ یقین و گمان کا
لیکن ہُوا نہ دور اندھیرا مکان کا
گندم کی بالیوں سے بہت روشنی ہوئی
اس روشنی سے قرض نہ اُترا کسان کا
آنچل کسی کا تیز ہوا نے اُڑا دیا
کشتی سے رابطہ نہ رہا بادبان کا
جلتا رہا چراغ یقین و گمان کا
لیکن ہُوا نہ دور اندھیرا مکان کا
گندم کی بالیوں سے بہت روشنی ہوئی
اس روشنی سے قرض نہ اُترا کسان کا
آنچل کسی کا تیز ہوا نے اُڑا دیا
کشتی سے رابطہ نہ رہا بادبان کا
مِری حیات کے صحرا میں چھاؤں جیسا تھا
عجیب شخص تھا ٹھنڈی ہواؤں جیسا تھا
کھِلا ہی رہتا تھا ہر دم گُلاب کی صورت
مزاج اس کا چمن کی فضاؤں جیسا تھا
اسی زمانے میں رہتا ہوں ہر زمانے میں
وہ جب بدن پہ گُلوں کی قباؤں جیسا تھا
اے شوق دل بھی ایک معما عجیب ہے
صحرا کو آندھیوں کی تمنا عجیب ہے
موجوں کے اضطراب نے دھڑکا دیا تھا دل
اترے جو ہم، اتر گیا دریا، عجیب ہے
دشوار ہو گئی ہے اب اپنی شناخت بھی
آئینہ کہہ رہا ہے کہ چہرہ عجیب ہے
اک عمر سے جس کو لیے پھرتا ہوں نظر میں
وہ روپ ہے سورج میں نہ وہ رنگ سحر میں
چلتی ہیں ہوائیں تو برس جاتی ہیں آنکھیں
چھائے ہیں تری یاد کے بادل مرے گھر میں
حیران ہوئے جاتے ہیں مجھے دیکھنے والے
آئینہ معلق ہے مرے دیدۂ تر میں
جس شخص کو دیکھو وہی سرگرم سفر ہے
دنیا کہیں ویران نہ ہو جائے، یہ ڈر ہے
لائے گی کبھی رنگ ہواؤں کی محبت
ہم جس میں بسر کرتے ہیں وہ ریت کا گھر ہے
صحرا میں کسی سائے کی امید نہ ٹوٹی
حسرت کی نگاہوں میں بگولا بھی شجر ہے
سیاہ رات پشیماں ہے ہم رکابی سے
وہ روشنی ہے ترے غم کی ماہتابی سے
صبا کے ہاتھ ہے اب عزت نگاہ مری
چمن مہکنے لگا گل کی بے حجابی سے
فرار ان سے ہے مشکل وہ دسترس میں نہیں
یہ زرد زرد سے موسم وہ دن گلابی سے
سینے میں دل جو درد کا مارا نہیں ملا
پھر آئینے میں عکس ہمارا نہیں ملا
میلے میں آ گئے تھے کہ شاید کوئی ملے
اس بھیڑ میں بھی کوئی ہمارا نہیں ملا
ہر چند اک ہجوم تھا آنکھوں کا ہر طرف
لیکن کسی نظر کا سہارا نہیں ملا
آنکھوں میں اس کی ڈوب کے ابھرا نہیں ہوں میں
جس نے بھلا دیا اسے بھولا نہیں ہوں میں
اب لمحہ لمحہ اپنے بکھرنے کا خوف ہے
غنچے کی طرح بند ہوں کھلتا نہیں ہوں میں
پیچھے پلٹ کے دیکھا تو پرچھائیں بھی نہ تھی
سوچا تھا راہِ شوق میں تنہا نہیں ہوں میں