Tuesday, 8 December 2020

اک عمر سے جس کو لیے پھرتا ہوں نظر میں

 اک عمر سے جس کو لیے پھرتا ہوں نظر میں 

وہ روپ ہے سورج میں نہ وہ رنگ سحر میں 

چلتی ہیں ہوائیں تو برس جاتی ہیں آنکھیں

چھائے ہیں تری یاد کے بادل مرے گھر میں

حیران ہوئے جاتے ہیں مجھے دیکھنے والے

آئینہ معلق ہے مرے دیدۂ تر میں

اک چاند کو چھونے کی تمنا میں ہوں پاگل

بادل سا اڑا جاتا ہوں خوابوں کے سفر میں

موتی مری آنکھوں نے لٹا ڈالے ہیں فاخر

خوشرنگ کوئی پھول کھلا جب بھی جگر میں


احمد فاخر

No comments:

Post a Comment