پیار میں اور خسارہ ہی نہیں تھا شاید
اس لیے اپنا گزارہ ہی نہیں تھا شاید
جانے کیا سوچ کے وہ مجھ کو دغا دیتے رہے
غالباً مجھ سا بے چارہ ہی نہیں تھا شاید
ایک آواز پہ ہم لوٹ کے آتے واپس
آپ نے ہم کو پکارا ہی نہیں تھا شاید
چودھویں رات کا مجھ کو تو پتہ ہی نہ چلا
اس نے زلفوں کو سنوارا ہی نہیں تھا شاید
آئینہ توڑتے ہی مر گیا، وہ دیوانہ
اسے اپنے سا گوارہ ہی نہیں تھا شاید
اس نے ہر بار فقط موت کی خواہش کی تھی
اس کا جیون میں سہارہ ہی نہیں تھا شاید
تیرے جانے پہ تو حیرت ہے، کوئی دکھ ہی نہیں
تُو مجھے اصل میں پیارا ہی نہیں تھا شاید
بس یہی سوچ کے کشتی کو ڈبویا، بابو
اس کی قسمت میں کنارہ ہی نہیں تھا شاید
آخرش اس کو مرے دل سے اترنا تھا علی
اس کو دل میں جو اتارا ہی نہیں تھا شاید
ہائے تھک ہار کے پہنچا ہوں تہِ خاک علی
بس کوئی اور دوارہ ہی نہیں تھا شاید
علی سرمد
No comments:
Post a Comment