شدت بہار کی بھی گوارا نہیں مجھے
پھولوں کے توڑنے کا بھی یارا نہیں مجھے
موجوں سے کھیلتا ہوں ارادوں کا دور ہے
موجوں میں آرزوئے کنارہ نہیں مجھے
میں گر پڑا تھا راہ میں چلتے ہوئے مگر
پھر بھی تو دوستوں نے پکارا نہیں مجھے
شدت بہار کی بھی گوارا نہیں مجھے
پھولوں کے توڑنے کا بھی یارا نہیں مجھے
موجوں سے کھیلتا ہوں ارادوں کا دور ہے
موجوں میں آرزوئے کنارہ نہیں مجھے
میں گر پڑا تھا راہ میں چلتے ہوئے مگر
پھر بھی تو دوستوں نے پکارا نہیں مجھے
نہ گھر سکون کدہ ہے نہ کارخانۂ عشق
مگر یہ ہم ہیں کہ لکھتے رہے ہیں نامۂ عشق
بہت سے نام تھے اب کوئی یاد آتا نہیں
ہمارے دل میں رہا دفن اک خزانۂ عشق
سب اپنے اپنے طریقے سے بھیک مانگتے ہیں
کوئی بنامِ محبت کوئی بہ جامۂ عشق
ہوا کے رخ پہ کھلا بادباں اندھیرے کا
یہاں پہ نام نہیں اب کسی سویرے کا
اٹھا کے لے گیا ثروت کبھی کا ہے جوگی
کوئی سراغ نہیں اب اسی کے پھیرے کا
ہوائے گرم کے تپتے لباس میں پہروں
وہ سایہ ٹانکتا ہے ہر شجر گھنیرے کا
چراغ بجھ بھی چکا روشنی نہیں جاتی
وہ ساتھ ساتھ ہے اور بے کلی نہیں جاتی
شبابِ رفتہ پھر آتا نہیں جوانی پر
یہ وہ مکاں ہے کہ جس کو گلی نہیں جاتی
عجیب در بدری میں گزر رہی ہے حیات
کہ اپنے گھر میں بھی اب بے گھری نہیں جاتی
جب بھی تنہائی کبھی ہوتی ہے حاصل مجھ کو
وقت رکھ دیتا ہے میرے ہی مقابل مجھ کو
آخری عمر کی افتاد گئی طبع کی خیر
راس آتا ہے الم زار نہ محفل مجھ کو
ایک بار اور میں جی پاؤں تو شاید حل ہوں
زندگانی نے دئیے ایسے مسائل مجھ کو
زخم کے رنگ ہیں کیا میری ردا جانتی ہے
کس نے کی کس سے وفا خود یہ وفا جانتی ہے
اب قفس اور گلستاں میں کوئی فرق نہیں
ہم کو خوشبو کی طلب ہے یہ صبا جانتی ہے
خود پرستی کے محلات میں رہنے والو
زلزلہ آنے کو ہے لرزشِ پا جانتی ہے
تیری دنیا کی کج ادائی سے
لڑ رہا ہوں بھری خدائی سے
حسن ہے آپ اپنی آرائش
حسن گھٹتا ہے خود نمائی سے
ہم نے قدموں کو دور رکھا ہے
ہر بدی سے ہر اک برائی سے
جب سے دریا میں ہے طغیانی بہت
پار جانے میں ہے آسانی بہت
کوئی منظر بھی نہیں اچھا لگا
اب کے آنکھوں میں ہے ویرانی بہت
اپنی قیمت تو نہیں لیکن یہاں
ایسے گوہر کی ہے ارزانی بہت
شدت بہار کی بھی گوارا نہیں مجھے
پھولوں کے توڑنے کا بھی یارا نہیں مجھے
موجوں سے کھیلتا ہوں ارادوں کا دور ہے
موجوں میں آرزوئے کنارا نہیں مجھے
میں گر پڑا تھا راہ میں چلتے ہوئے مگر
پھر بھی تو دوستوں نے پکارا نہیں مجھے
نہ گھر سکون کدہ ہے، نہ کارخانۂ عشق
مگر یہ ہم ہیں کہ لکھتے رہے ہیں نامۂ عشق
بہت سے نام تھے، اب کوئی یاد آتا نہیں
ہمارے دل میں رہا دفن اک خزانۂ عشق
سب اپنے اپنے طریقے سے بھیک مانگتے ہیں
کوئی بنامِ محبت، کوئی بہ جامۂ عشق