Showing posts with label عابد ودود. Show all posts
Showing posts with label عابد ودود. Show all posts

Wednesday, 28 December 2022

شدت بہار کی بھی گوارا نہیں مجھے

 شدت بہار کی بھی گوارا نہیں مجھے

پھولوں کے توڑنے کا بھی یارا نہیں مجھے

موجوں سے کھیلتا ہوں ارادوں کا دور ہے

موجوں میں آرزوئے کنارہ نہیں مجھے

میں گر پڑا تھا راہ میں چلتے ہوئے مگر

پھر بھی تو دوستوں نے پکارا نہیں مجھے

Sunday, 31 October 2021

نہ گھر سکون کدہ ہے نہ کارخانۂ عشق

 نہ گھر سکون کدہ ہے نہ کارخانۂ عشق

مگر یہ ہم ہیں کہ لکھتے رہے ہیں نامۂ عشق

بہت سے نام تھے اب کوئی یاد آتا نہیں

ہمارے دل میں رہا دفن اک خزانۂ عشق

سب اپنے اپنے طریقے سے بھیک مانگتے ہیں

کوئی بنامِ محبت کوئی بہ جامۂ عشق

Friday, 29 October 2021

ہوا کے رخ پہ کھلا بادباں اندھیرے کا

 ہوا کے رخ پہ کھلا بادباں اندھیرے کا

یہاں پہ نام نہیں اب کسی سویرے کا

اٹھا کے لے گیا ثروت کبھی کا ہے جوگی

کوئی سراغ نہیں اب اسی کے پھیرے کا

ہوائے گرم کے تپتے لباس میں پہروں

وہ سایہ ٹانکتا ہے ہر شجر گھنیرے کا

Saturday, 23 October 2021

چراغ بجھ بھی چکا روشنی نہیں جاتی

 چراغ بجھ بھی چکا روشنی نہیں جاتی

وہ ساتھ ساتھ ہے اور بے کلی نہیں جاتی

شبابِ رفتہ پھر آتا نہیں جوانی پر

یہ وہ مکاں ہے کہ جس کو گلی نہیں جاتی

عجیب در بدری میں گزر رہی ہے حیات

کہ اپنے گھر میں بھی اب بے گھری نہیں جاتی

Tuesday, 19 October 2021

جب بھی تنہائی کبھی ہوتی ہے حاصل مجھ کو

 جب بھی تنہائی کبھی ہوتی ہے حاصل مجھ کو

وقت رکھ دیتا ہے میرے ہی مقابل مجھ کو

آخری عمر کی افتاد گئی طبع کی خیر

راس آتا ہے الم زار نہ محفل مجھ کو

ایک بار اور میں جی پاؤں تو شاید حل ہوں

زندگانی نے دئیے ایسے مسائل مجھ کو

Sunday, 17 October 2021

زخم کے رنگ ہیں کیا میری ردا جانتی ہے

 زخم کے رنگ ہیں کیا میری ردا جانتی ہے

کس نے کی کس سے وفا خود یہ وفا جانتی ہے

اب قفس اور گلستاں میں کوئی فرق نہیں

ہم کو خوشبو کی طلب ہے یہ صبا جانتی ہے

خود پرستی کے محلات میں رہنے والو

زلزلہ آنے کو ہے لرزشِ پا جانتی ہے

تیری دنیا کی کج ادائی سے

 تیری دنیا کی کج ادائی سے

لڑ رہا ہوں بھری خدائی سے

حسن ہے آپ اپنی آرائش

حسن گھٹتا ہے خود نمائی سے

ہم نے قدموں کو دور رکھا ہے

ہر بدی سے ہر اک برائی سے

Saturday, 16 October 2021

جب سے دریا میں ہے طغیانی بہت

 جب سے دریا میں ہے طغیانی بہت

پار جانے میں ہے آسانی بہت

کوئی منظر بھی نہیں اچھا لگا

اب کے آنکھوں میں ہے ویرانی بہت

اپنی قیمت تو نہیں لیکن یہاں

ایسے گوہر کی ہے ارزانی بہت

Friday, 6 August 2021

شدت بہار کی بھی گوارا نہیں مجھے

 شدت بہار کی بھی گوارا نہیں مجھے

پھولوں کے توڑنے کا بھی یارا نہیں مجھے

موجوں سے کھیلتا ہوں ارادوں کا دور ہے

موجوں میں آرزوئے کنارا نہیں مجھے

میں گر پڑا تھا راہ میں چلتے ہوئے مگر

پھر بھی تو دوستوں نے پکارا نہیں مجھے

Thursday, 8 July 2021

نہ گھر سکون کدہ ہے نہ کارخانۂ عشق

 نہ گھر سکون کدہ ہے، نہ کارخانۂ عشق

مگر یہ ہم ہیں کہ لکھتے رہے ہیں نامۂ عشق

بہت سے نام تھے، اب کوئی یاد آتا نہیں

ہمارے دل میں رہا دفن اک خزانۂ عشق

سب اپنے اپنے طریقے سے بھیک مانگتے ہیں

کوئی بنامِ محبت، کوئی بہ جامۂ عشق