Saturday, 16 October 2021

جب سے دریا میں ہے طغیانی بہت

 جب سے دریا میں ہے طغیانی بہت

پار جانے میں ہے آسانی بہت

کوئی منظر بھی نہیں اچھا لگا

اب کے آنکھوں میں ہے ویرانی بہت

اپنی قیمت تو نہیں لیکن یہاں

ایسے گوہر کی ہے ارزانی بہت

کھیت ہیں بنجر تو صحرا بے نمو

ورنہ دریاؤں میں ہے پانی بہت

اس کے چہرے پر مری آنکھیں سجیں

میرے چہرے پر تھی حیرانی بہت

کیا خلوص و مہر کی باتیں کریں

زندگی میں ہے پشیمانی بہت

ہر کسی کو علم ہے عابد ودود

باتیں اس کی جانی پہچانی بہت


عابد ودود

No comments:

Post a Comment