Saturday, 16 October 2021

طبیعت جو بھری محفل میں گھبرائی تو کیا ہو گا

 طبیعت جو بھری محفل میں گھبرائی تو کیا ہو گا

ہوئی نہ دور پھر بھی دی تو کیا ہو گا

چلا ہوں دل لگانے کو مگر اک فکر ہے لاحق

محبت بھی مِرے من کو نہ راس آئی تو کیا ہو گا

زمانہ مر مٹا ہے جس کی خوئے سر بلندی پر

کرے جابر کے آگے وہ جبیں سائی تو کیا ہو گا

دیا ہے زیبِ تن کر نے لباسِ رہبرِ ملت

اسے مرغوب ہو رہزن کی پہنائی تو کیا ہو گا

حنا بھاتی ہے مجھ کو بھی مگر ہے ساتھ ہی خدشہ

اڑا کے لے گئی ہاتھوں کی رعنائی تو کیا ہو گا

گلابِ سرخ کی رنگت، گلابی ہو گئی دیکھو

کلی بھی دیکھ کے اس کو جو شرمائی تو کیا ہو گا

بنا تو لو گے چند لمحات میں صحرا کو تم گلشن

مزاجاً پھر بھی میں ٹھہرا جو صحرائی تو کیا ہو گا

مِرے اشعار نے غفلت میں سوتوں کو جگایا ہے

امیرِ شہر کو مفتی کو نہ نیند آئی تو کیا ہو گا


ایاز مفتی

No comments:

Post a Comment