طبیعت جو بھری محفل میں گھبرائی تو کیا ہو گا
ہوئی نہ دور پھر بھی دی تو کیا ہو گا
چلا ہوں دل لگانے کو مگر اک فکر ہے لاحق
محبت بھی مِرے من کو نہ راس آئی تو کیا ہو گا
زمانہ مر مٹا ہے جس کی خوئے سر بلندی پر
کرے جابر کے آگے وہ جبیں سائی تو کیا ہو گا
دیا ہے زیبِ تن کر نے لباسِ رہبرِ ملت
اسے مرغوب ہو رہزن کی پہنائی تو کیا ہو گا
حنا بھاتی ہے مجھ کو بھی مگر ہے ساتھ ہی خدشہ
اڑا کے لے گئی ہاتھوں کی رعنائی تو کیا ہو گا
گلابِ سرخ کی رنگت، گلابی ہو گئی دیکھو
کلی بھی دیکھ کے اس کو جو شرمائی تو کیا ہو گا
بنا تو لو گے چند لمحات میں صحرا کو تم گلشن
مزاجاً پھر بھی میں ٹھہرا جو صحرائی تو کیا ہو گا
مِرے اشعار نے غفلت میں سوتوں کو جگایا ہے
امیرِ شہر کو مفتی کو نہ نیند آئی تو کیا ہو گا
ایاز مفتی
No comments:
Post a Comment