تعلق
میں تمہیں تم مجھے چاہتے ہو
یہ ہم جانتے ہیں
مگر یہ زمانہ ہماری طرح سے نہیں سوچتا
یہ وہ دیکھتا ہے جسے دیکھ کر ہم نہیں مانتے
ہم تو مسجودِ غائب کے قائل ہیں
لیکن، مِری جاں
زمانہ شبیہہ مانگتا ہے
زمانے کی پہلی ضرورت بہت عام ہے
ہمارے تعلق کا کیا نام ہے
شمامہ افق
No comments:
Post a Comment