غمِ محبت سے کوئی نکالے مجھ کو
پستی سے بلندی پہ اٹھا لے مجھ کو
ڈراتے ہیں دن کے اجالے مجھ کو
اپنے دامن میں کوئی چھپا لے مجھ کو
اُن سے میرا تڑپنا نہ دیکھا گیا
کر دیا موجوں کے حوالے مجھ کو
غمِ محبت سے کوئی نکالے مجھ کو
پستی سے بلندی پہ اٹھا لے مجھ کو
ڈراتے ہیں دن کے اجالے مجھ کو
اپنے دامن میں کوئی چھپا لے مجھ کو
اُن سے میرا تڑپنا نہ دیکھا گیا
کر دیا موجوں کے حوالے مجھ کو
آنکھ میں پانی بھر کر لائے کون
اس جلتے ہوئے شہر کو بچائے کون
ایک تو محبت اور وہ بھی ناکام
میں بد نصیب، مِرا نصیب بنائے کون
اُمید اُن کے ہاتھوں جام پینے کی
ایسی اُمید پوری کرے تو کرے کون
موت محوِ رقص ہے شمع اور پروانے میں
کچھ تو راز ہے ان کے یوں جل جانے میں
عشق کے پیمانے میں وہ جام پلائی اس نے
پیاس نہیں بُجھتی اب مئے خانے میں
ہوتی ہے پُرستش دونوں میں صنم کی
فرق ہی کیا ہے دل اور بُت خانے میں
تیری محبت نے تو کمال کر ڈالا
ہمیں، اُداسیوں کی مثال کر ڈالا
زندگی میں کبھی ملے تو پُوچھیں گے
کس کے غم نے کِسے نڈھال کر ڈالا
ذرا یہ بھی بتا اسے کیا جواب دوں؟
اُداسی پہ کسی نے جو سوال کر ڈالا