Showing posts with label انجم شہزاد. Show all posts
Showing posts with label انجم شہزاد. Show all posts

Monday, 29 April 2024

غمِ محبت سے کوئی نکالے مجھ کو

 غمِ محبت سے کوئی نکالے مجھ کو

پستی سے بلندی پہ اٹھا لے مجھ کو

ڈراتے ہیں دن کے اجالے مجھ کو

اپنے دامن میں کوئی چھپا لے مجھ کو

اُن سے میرا تڑپنا نہ دیکھا گیا

کر دیا موجوں کے حوالے مجھ کو

Sunday, 14 January 2024

آنکھ میں پانی بھر کر لائے کون

 آنکھ میں پانی بھر کر لائے کون

اس جلتے ہوئے شہر کو بچائے کون

ایک تو محبت اور وہ بھی ناکام

میں بد نصیب، مِرا نصیب بنائے کون

اُمید اُن کے ہاتھوں جام پینے کی

ایسی اُمید پوری کرے تو کرے کون

Monday, 4 October 2021

موت محو رقص ہے شمع اور پروانے میں

موت محوِ رقص ہے شمع اور پروانے میں

کچھ تو راز ہے ان کے یوں جل جانے میں

عشق کے پیمانے میں وہ جام پلائی اس نے

پیاس نہیں بُجھتی اب مئے خانے میں

ہوتی ہے پُرستش دونوں میں صنم کی

فرق ہی کیا ہے دل اور بُت خانے میں

Friday, 9 April 2021

تیری محبت نے تو کمال کر ڈالا

تیری محبت نے تو کمال کر ڈالا

ہمیں، اُداسیوں کی مثال کر ڈالا

زندگی میں کبھی ملے تو پُوچھیں گے

کس کے غم نے کِسے نڈھال کر ڈالا

ذرا یہ بھی بتا اسے کیا جواب دوں؟

اُداسی پہ کسی نے جو سوال کر ڈالا