تیری محبت نے تو کمال کر ڈالا
ہمیں، اُداسیوں کی مثال کر ڈالا
زندگی میں کبھی ملے تو پُوچھیں گے
کس کے غم نے کِسے نڈھال کر ڈالا
ذرا یہ بھی بتا اسے کیا جواب دوں؟
اُداسی پہ کسی نے جو سوال کر ڈالا
سنا تھا زندگی کا سفر بہت مُشکل ہے
تیری محبت نے تو اسے محال کر ڈالا
انجم وہ پہلے بہت یاد کیا کرتے تھے
اب تو بُھلا کر اُس نے مثال کر ڈالا
انجم شہزاد
No comments:
Post a Comment