ہماری آنکھوں کی پتلیوں میں جو کھارے پانی کا ذائقہ ہے
یہ نوجوانی کا تجرِبہ تھا،۔ یہ رائیگانی کا ذائقہ ہے
ٹپک رہا ہےجو شہد اب بھی ہمارے شعروں سے خوشبووں کا
کسی نے چومے تھے ہاتھ دل سے یہ اس نشانی کا ذائقہ ہے
وہ نقش ایسے ہے جیسے ہلکے کلر سے بنتی شدید حیرت
وہ شخص ایسے ہے جیسے آباد بیکرانی کا ذائقہ ہے