Showing posts with label گل جہان. Show all posts
Showing posts with label گل جہان. Show all posts

Saturday, 1 April 2023

ہماری آنکھوں کی پتلیوں میں جو کھارے پانی کا ذائقہ ہے

 ہماری آنکھوں کی پتلیوں میں جو کھارے پانی کا ذائقہ ہے

یہ نوجوانی کا تجرِبہ تھا،۔ یہ رائیگانی کا ذائقہ ہے

ٹپک رہا ہےجو شہد اب بھی ہمارے شعروں سے خوشبووں کا

کسی نے چومے تھے ہاتھ دل سے یہ اس نشانی کا ذائقہ ہے

وہ نقش ایسے ہے جیسے ہلکے کلر سے بنتی شدید حیرت

وہ شخص ایسے ہے جیسے آباد بیکرانی کا ذائقہ ہے

Wednesday, 21 September 2022

فضائے ذہن و بدن گل پگھلنے لگتی ہے

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


فضائے ذہن و بدن گل پگھلنے لگتی ہے

لبوں پہ نعتِ نبیﷺ جب مچلنے لگتی ہے

درودﷺ و نعت مِری آخری دوائیں ہیں

انہیں پڑھوں تو طبیعت سنبھلنے لگتی ہے

کرے جو بات کوئی نعتیہ تکلم میں

تِرے فقیر کی لُکنت غزلنے لگتی ہے

Thursday, 30 December 2021

خدا معبدوں میں اکیلا ہے

 الٹے ہونٹ


خدا معبدوں میں اکیلا ہے

کوئی عبادت کو جاتا نہیں

جو گیا

خالی ورزش ہوئی

خود وہ اٹکا رہا، دُور باہر کہیں

Friday, 19 November 2021

جب بھی رستے میں کوئی جاگتا مقتل آئے

 جب بھی رستے میں کوئی جاگتا مقتل آئے

وقت کے ماتھے پہ تشکیک زدہ بل آئے

دھوپ کے دشت میں کب موسمی تبدیلی ہوئی

جانے کب سر پہ مِرے یاد کے بادل آئے

مجھ کو اس خواب کی ہریالی پہ پیار آتا ہے

جس میں کچھ وقت بتانے کوئی جنگل آئے

Tuesday, 19 October 2021

سایا نوچ کے پھینک دیا ہے

 فرسٹریشن


آخر میں نے

جسم سے اپنا

سایا نوچ کے پھینک دیا ہے


گل جہان

Friday, 9 July 2021

زندگی تیری برسی پہ آئے ہوئے سارے لوگوں کا فرقہ محبت نہیں

 زندگی تیری برسی پہ آئے ہوئے سارے لوگوں کا فرقہ محبت نہیں

چند مغموم، باقی تماشائی ہیں، تجھ سے ہر اک کا رشتہ محبت نہیں

میں نے جس کی ہری آنکھ کا ذکر ہر نظم میں عین واجب سمجھ کر کیا

اس نے ناول لکھا، اور ناول کے پہلے ہی صفحے پہ لکھا؛ محبت نہیں

اک اضافت کے کُلیے کے باعث فزکس آج سائنس کی ماں بن گئی ہے تو کیا

جاؤ، سائنس سے پوچھو کہ کیا نیوکلئس کی توجہ کا قبلہ محبت نہیں؟

Tuesday, 6 July 2021

کریں ایک دوجے کو سجدہ

 کریں ایک دُوجے کو سجدہ


خدا یافتہ سب مذاہب

ابھی تک

اسی خُشک برگد کے نیچے کھڑے ہیں

جہاں ہم نے اک دوسرے کو

بہت سارے سجدے کیے تھے

Monday, 5 July 2021

عورت کی پیمائش مرد کے بس کی نہیں

 عورت، مرد، پیمائش اور لذت 


عورت کی پیمائش

مرد کے بس کی نہیں

برہنگی

مرد کی حد ہے

جبکہ عورت کی حد کا

Sunday, 4 July 2021

مجھ ایسے پاگل پہ گہری بندش نہیں کھلے گی

 مجھ ایسے پاگل پہ گہری بندش نہیں کُھلے گی

بدن کے رستے سے تیری خواہش نہیں کھلے گی

وہ ایک کھڑکی تو بے تحاشہ کھلے گی، لیکن

اس ایک کھڑکی پہ کوئی بارش نہیں کھلے گی

مِری طلب پر کسی رسد کا اثر نہیں ہے

کسی خدا پر مِری پُرستش نہیں کھلے گی

Monday, 14 December 2020

چھوڑ جانے سے ترے فرق جو آیا نہیں ہے

 چھوڑ جانے سے ترے فرق جو آیا نہیں ہے

اس لیے دوست! ترا ہجر منایا نہیں ہے

وہ خسارہ ہے کہ مقروض ہوئی آنکھوں نے

ایک مدت سے کوئی خواب کمایا نہیں ہے

دھوپ کا بوجھ اٹھانے میں جھلستے بھی رہے

اپنے سائے کا بھی سرمایا گرایا نہیں ہے