Showing posts with label علی اختر. Show all posts
Showing posts with label علی اختر. Show all posts

Monday, 18 July 2022

تمہاری دنیا سے لاگ آؤٹ ہو جاؤں گا

 لاگ آؤٹ


تمہارے مسلسل آف لائن ہونے پر 

میرا لاگ ان رہنا بے کار ہے

میری فیس بک کی دنیا تمہیں سے وابستہ ہے

تم وہ پوسٹ ہو جو کبھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی

میں تھک گیا اے جہاں نورد

Friday, 8 July 2022

مجھے مار دیا جائے گا

 مجھے مار دیا جائے گا


میں نے شب بیداری میں

تمہارے خواب دیکھے ہیں

تم میری آخری ضد ہو

جس طرح دن رات کی ضد ہے

دن، رات کو مار دیتا ہے

Saturday, 26 March 2022

مجھے تمہارے شانے درکار ہیں

 مجھے تمہارے شانے درکار ہیں


میں کارگہ حیات کی

اداس شاموں میں

بے بسی کی رتوں میں

انہی کے سہارے لے لے کر چل پھر رہا تھا

میں نے تمہارے شانوں پر اس لیے ہاتھ رکھے ہیں

Monday, 20 September 2021

تم نے دیوانہ کیا اچھا ہوا

 تم نے دیوانہ کیا اچھا ہُوا

ہر جگہ میرا جنوں رُسوا ہوا

اب تو دیوانوں کے دل کی ہو گئی

موسمِ گُل میں چمن صحرا ہوا

جو بھی آیا حُسنِ پنہاں دیکھ کر

کوئی اندھا، تو کوئی بہرا ہوا

Wednesday, 8 September 2021

حریم کعبہ بنا دی وہ سر زمیں میں نے

 حریمِ کعبہ بنا دی وہ سر زمیں میں نے

تِرے خیال میں رکھ دی جہاں جبیں میں نے

مجھی کو پردۂ ہستی میں دے رہا ہے فریب

وہ حسن جس کو کیا جلوہ آفریں میں نے

چٹک میں غنچے کی وہ صوت جاں فزا تو نہیں

سنی ہے پہلے بھی آواز یہ کہیں میں نے

کیا سوال تھا میرا اور کیا جواب ان کا

  دل کی آرزو تھی درد درد بے دوا پایا

کیا سوال تھا میرا اور کیا جواب ان کا

عشق کی لطافت کو خاک طور کیا جانے

مجھ پہ تھی نظر انکی مجھ سے تھا خطاب ان کا

عالم تمنا ہے خواب کا سا اک عالم

شوق نا تمام اپنا عشوہ کامیاب ان کا

Tuesday, 7 September 2021

دل و جاں ہم نثار کرتے ہیں

دل و جاں ہم نثار کرتے ہیں

وہ نگاہوں سے وار کرتے ہیں

حال دل جب انہیں سناتا ہوں

آنکھ وہ اشک بار کرتے ہیں

ہم نے ان سے کبھی گِلہ نہ کیا

وہ تو شکوے ہزار کرتے ہیں

Wednesday, 4 August 2021

فریب جلوہ کہاں تک بروئے کار رہے

 فریبِ جلوہ کہاں تک بروئے کار رہے

نقاب اٹھاؤ کہ کچھ دن ذرا بہار رہے

خرابِ شوق رہے، وقفِ انتظار رہے

اب اور کیا تِرے وعدوں کا اعتبار رہے

میں رازِ عشق کو رُسوا کروں، معاذاللہ

یہ بات اور ہے دل پر نہ اختیار رہے