لاگ آؤٹ
تمہارے مسلسل آف لائن ہونے پر
میرا لاگ ان رہنا بے کار ہے
میری فیس بک کی دنیا تمہیں سے وابستہ ہے
تم وہ پوسٹ ہو جو کبھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی
میں تھک گیا اے جہاں نورد
لاگ آؤٹ
تمہارے مسلسل آف لائن ہونے پر
میرا لاگ ان رہنا بے کار ہے
میری فیس بک کی دنیا تمہیں سے وابستہ ہے
تم وہ پوسٹ ہو جو کبھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی
میں تھک گیا اے جہاں نورد
مجھے مار دیا جائے گا
میں نے شب بیداری میں
تمہارے خواب دیکھے ہیں
تم میری آخری ضد ہو
جس طرح دن رات کی ضد ہے
دن، رات کو مار دیتا ہے
مجھے تمہارے شانے درکار ہیں
میں کارگہ حیات کی
اداس شاموں میں
بے بسی کی رتوں میں
انہی کے سہارے لے لے کر چل پھر رہا تھا
میں نے تمہارے شانوں پر اس لیے ہاتھ رکھے ہیں
تم نے دیوانہ کیا اچھا ہُوا
ہر جگہ میرا جنوں رُسوا ہوا
اب تو دیوانوں کے دل کی ہو گئی
موسمِ گُل میں چمن صحرا ہوا
جو بھی آیا حُسنِ پنہاں دیکھ کر
کوئی اندھا، تو کوئی بہرا ہوا
حریمِ کعبہ بنا دی وہ سر زمیں میں نے
تِرے خیال میں رکھ دی جہاں جبیں میں نے
مجھی کو پردۂ ہستی میں دے رہا ہے فریب
وہ حسن جس کو کیا جلوہ آفریں میں نے
چٹک میں غنچے کی وہ صوت جاں فزا تو نہیں
سنی ہے پہلے بھی آواز یہ کہیں میں نے
دل کی آرزو تھی درد درد بے دوا پایا
کیا سوال تھا میرا اور کیا جواب ان کا
عشق کی لطافت کو خاک طور کیا جانے
مجھ پہ تھی نظر انکی مجھ سے تھا خطاب ان کا
عالم تمنا ہے خواب کا سا اک عالم
شوق نا تمام اپنا عشوہ کامیاب ان کا
دل و جاں ہم نثار کرتے ہیں
وہ نگاہوں سے وار کرتے ہیں
حال دل جب انہیں سناتا ہوں
آنکھ وہ اشک بار کرتے ہیں
ہم نے ان سے کبھی گِلہ نہ کیا
وہ تو شکوے ہزار کرتے ہیں
فریبِ جلوہ کہاں تک بروئے کار رہے
نقاب اٹھاؤ کہ کچھ دن ذرا بہار رہے
خرابِ شوق رہے، وقفِ انتظار رہے
اب اور کیا تِرے وعدوں کا اعتبار رہے
میں رازِ عشق کو رُسوا کروں، معاذاللہ
یہ بات اور ہے دل پر نہ اختیار رہے