مجھے مار دیا جائے گا
میں نے شب بیداری میں
تمہارے خواب دیکھے ہیں
تم میری آخری ضد ہو
جس طرح دن رات کی ضد ہے
دن، رات کو مار دیتا ہے
اور رات مجھے مجھے چلتے پھرتے
اکثر مار دیا جاتا ہے
میں پہلی بار تمہارے گاؤں میں مرا تھا
جب تم نے پہلی بار مجھے دیکھا تھا
شمار کنندہ بارہ ماہ میں
بار بار میری موت لکھتے تھک چکا ہے
میں آزادی کے بعد خود مختار نہیں رہا
تمہارے پاس مجھ سمیت سب کچھ ہے
میرے پاس تم سمیت کچھ بھی نہیں
میرے علاوہ تم سبھی کو جانتی ہو
تمہارے علاوہ میرا نام
کوئی بھی لے سکتا ہے
مجھے آخری بار
تمہیں بار بار یاد کرنے
اور پبلک پلیس پر
سگریٹ پینے کے جرم میں
مار دیا جائے گا
علی اختر
No comments:
Post a Comment