Friday, 8 July 2022

مجھے مار دیا جائے گا

 مجھے مار دیا جائے گا


میں نے شب بیداری میں

تمہارے خواب دیکھے ہیں

تم میری آخری ضد ہو

جس طرح دن رات کی ضد ہے

دن، رات کو مار دیتا ہے

اور رات مجھے مجھے چلتے پھرتے

اکثر مار دیا جاتا ہے

میں پہلی بار تمہارے گاؤں میں مرا تھا

جب تم نے پہلی بار مجھے دیکھا تھا

شمار کنندہ بارہ ماہ میں

بار بار میری موت لکھتے تھک چکا ہے

میں آزادی کے بعد خود مختار نہیں رہا

تمہارے پاس مجھ سمیت سب کچھ ہے

میرے پاس تم سمیت کچھ بھی نہیں

میرے علاوہ تم سبھی کو جانتی ہو

تمہارے علاوہ میرا نام

کوئی بھی لے سکتا ہے

مجھے آخری بار

تمہیں بار بار یاد کرنے

اور پبلک پلیس پر

سگریٹ پینے کے جرم میں

مار دیا جائے گا


علی اختر

No comments:

Post a Comment