Friday, 8 July 2022

روز اس دل کے کئی تار بدل جاتے ہیں

 روز اس دل کے کئی تار بدل جاتے ہیں

وقت پڑنے پہ مِرے یار بدل جاتے ہیں

جب بھی ہم لوٹ کے آتے ہیں گھروں کو اپنے

یہ گلی، اور یہ بازار بدل جاتے ہیں

اب بھی طاقت کے توازن کو بگڑتا پا کر

دن نکلتا ہے تو اخبار بدل جاتے ہیں

ایک مجبور کی بازار میں قیمت کیا ہے

رات کے ساتھ خریدار بدل جاتے ہیں

اک کہانی ہے ازل سے جو چلی آتی ہے

بس کہانی کے یہ کردار بدل جاتے ہیں

زین! اس طور بدلتے ہیں زمانے والے 

جیسے کوفے میں طرفدار بدل جاتے ہیں


زین عباس

No comments:

Post a Comment