روز اس دل کے کئی تار بدل جاتے ہیں
وقت پڑنے پہ مِرے یار بدل جاتے ہیں
جب بھی ہم لوٹ کے آتے ہیں گھروں کو اپنے
یہ گلی، اور یہ بازار بدل جاتے ہیں
اب بھی طاقت کے توازن کو بگڑتا پا کر
دن نکلتا ہے تو اخبار بدل جاتے ہیں
ایک مجبور کی بازار میں قیمت کیا ہے
رات کے ساتھ خریدار بدل جاتے ہیں
اک کہانی ہے ازل سے جو چلی آتی ہے
بس کہانی کے یہ کردار بدل جاتے ہیں
زین! اس طور بدلتے ہیں زمانے والے
جیسے کوفے میں طرفدار بدل جاتے ہیں
زین عباس
No comments:
Post a Comment