Showing posts with label پیر اکرم. Show all posts
Showing posts with label پیر اکرم. Show all posts

Sunday, 9 August 2026

ہم شہر میں اپنے ہی رہے شہر بدر سے

 ہر آنکھ پرکھتی رہی اندازِ دِگر سے

دیکھا نہ کسی نے بھی مجھے میری نظر سے

گم گشتہ مسافر ہوں، خبر یہ بھی نہیں ہے

منزل ہے مِری کون سی، آیا ہوں کدھر سے

دہلیز کو قدموں کی تھکن چُوم رہی تھی

میں شام کو گھر لوٹا جو دن بھر کے سفر سے

Saturday, 7 March 2026

کوئی سیلاب ہی آنکھوں کا مقدر کر دے

 کوئی سیلاب ہی آنکھوں کا مقدر کر دے

اب مِرے سینے کے صحرا کو سمندر کر دے

پھر عطا کر اسے مہکے ہوئے زخموں کے گلاب

پھر یہ شاخِ دلِ افسردہ معطر کر دے

کب تلک دیکھیں گی بے جان مناظر آنکھیں

زندگی بخش انہیں یا انہیں پتھر کر دے

Friday, 3 January 2025

عکس جمال شمع رسالت کہو اسے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


عکسِ جمالِ شمعِ رسالت کہو اسے

سرتاجِ دین و شاہِ شہادت کہو اسے

دیکھو تو ایک نُورِ حقیقت کا آئینہ

سمجھو اگر تو رازِ مشیّت کہو اسے

عجز و رضا و صبر کی معراجِ آخریں

صِدق و صفا و عشق و محبت کہو اسے

Monday, 2 December 2024

چوم لے اب تو دست دعا روشنی

 چوم لے اب تو دست دعا روشنی

اے خدا! روشنی، اے خدا! روشنی

میرے منظر کو سورج کوئی بخش دے

میری آنکھوں کہ ورنہ بُجھا روشنی

زہرِ ظلمت سے بے نور میرا بدن

تُو مجھے قطرہ قطرہ پِلا روشنی

Friday, 29 November 2024

نہ جانے دل کو یہ کیسا ہراس رہتا ہے

 نہ جانے دل کو یہ کیسا ہراس رہتا ہے

کوئی تو ہے جو مِرے آس پاس رہتا ہے

سمجھ میں آ نہ سکے، ذہن پر محیط رہے

وہ کون ہے؟ جو قرینِ قیاس رہتا ہے

یہ کیسے درد کی لذت ہے شاملِ احساس

عجیب کیف سے دل روشناس رہتا ہے