ہر آنکھ پرکھتی رہی اندازِ دِگر سے
دیکھا نہ کسی نے بھی مجھے میری نظر سے
گم گشتہ مسافر ہوں، خبر یہ بھی نہیں ہے
منزل ہے مِری کون سی، آیا ہوں کدھر سے
دہلیز کو قدموں کی تھکن چُوم رہی تھی
میں شام کو گھر لوٹا جو دن بھر کے سفر سے
ہر آنکھ پرکھتی رہی اندازِ دِگر سے
دیکھا نہ کسی نے بھی مجھے میری نظر سے
گم گشتہ مسافر ہوں، خبر یہ بھی نہیں ہے
منزل ہے مِری کون سی، آیا ہوں کدھر سے
دہلیز کو قدموں کی تھکن چُوم رہی تھی
میں شام کو گھر لوٹا جو دن بھر کے سفر سے
کوئی سیلاب ہی آنکھوں کا مقدر کر دے
اب مِرے سینے کے صحرا کو سمندر کر دے
پھر عطا کر اسے مہکے ہوئے زخموں کے گلاب
پھر یہ شاخِ دلِ افسردہ معطر کر دے
کب تلک دیکھیں گی بے جان مناظر آنکھیں
زندگی بخش انہیں یا انہیں پتھر کر دے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عکسِ جمالِ شمعِ رسالت کہو اسے
سرتاجِ دین و شاہِ شہادت کہو اسے
دیکھو تو ایک نُورِ حقیقت کا آئینہ
سمجھو اگر تو رازِ مشیّت کہو اسے
عجز و رضا و صبر کی معراجِ آخریں
صِدق و صفا و عشق و محبت کہو اسے
چوم لے اب تو دست دعا روشنی
اے خدا! روشنی، اے خدا! روشنی
میرے منظر کو سورج کوئی بخش دے
میری آنکھوں کہ ورنہ بُجھا روشنی
زہرِ ظلمت سے بے نور میرا بدن
تُو مجھے قطرہ قطرہ پِلا روشنی
نہ جانے دل کو یہ کیسا ہراس رہتا ہے
کوئی تو ہے جو مِرے آس پاس رہتا ہے
سمجھ میں آ نہ سکے، ذہن پر محیط رہے
وہ کون ہے؟ جو قرینِ قیاس رہتا ہے
یہ کیسے درد کی لذت ہے شاملِ احساس
عجیب کیف سے دل روشناس رہتا ہے