کر لوں گا جمع دولت و زر، اس کے بعد کیا
لے لوں گا شاندار سا گھر، اس کے بعد کیا
مے کی طلب جو ہو گی تو بن جاؤں گا میں رند
کر لوں گا مے کدوں کا سفر، اس کے بعد کیا
ہو گا جو شوق حسن سے راز و نیاز کا
کر لوں گا گیسوؤں میں سحر، اس کے بعد کیا
کر لوں گا جمع دولت و زر، اس کے بعد کیا
لے لوں گا شاندار سا گھر، اس کے بعد کیا
مے کی طلب جو ہو گی تو بن جاؤں گا میں رند
کر لوں گا مے کدوں کا سفر، اس کے بعد کیا
ہو گا جو شوق حسن سے راز و نیاز کا
کر لوں گا گیسوؤں میں سحر، اس کے بعد کیا
وہ ستم گر ہے خیالات سمجھنے والا
مجھ سے پہلے مِرے جذبات سمجھنے والا
میں نے رکھا ہے ہمیشہ ہی تبسم لب پر
رو دیا کیوں مِرے حالات سمجھنے والا
جو نہ سمجھے تیری منزل وہ یوں ہی چلتا رہا
رک گیا تیرے مقامات سمجھنے والا