Showing posts with label قمر جلال آبادی​. Show all posts
Showing posts with label قمر جلال آبادی​. Show all posts

Monday, 18 April 2022

کر لوں گا جمع دولت و زر اس کے بعد کیا

 ‎کر لوں گا جمع دولت و زر، اس کے بعد کیا

‎لے لوں گا شاندار سا گھر، اس کے بعد کیا

‎مے کی طلب جو ہو گی تو بن جاؤں گا میں رند

‎کر لوں گا مے کدوں کا سفر، اس کے بعد کیا

‎ہو گا جو شوق حسن سے راز و نیاز کا

‎کر لوں گا گیسوؤں میں سحر، اس کے بعد کیا

Saturday, 2 January 2021

وہ ستمگر ہے خیالات سمجھنے والا

وہ ستم گر ہے خیالات سمجھنے والا

مجھ سے پہلے مِرے جذبات سمجھنے والا

میں نے رکھا ہے ہمیشہ ہی تبسم لب پر

رو دیا کیوں مِرے حالات سمجھنے والا

جو نہ سمجھے تیری منزل وہ یوں ہی چلتا رہا

رک گیا تیرے مقامات سمجھنے والا

Saturday, 22 August 2020

تیرے خوابوں میں محبت کی دہائی دوں گا

تیرے خوابوں میں محبت کی دہائی دوں گا
جب کوئی اور نہ ہو گا تو دکھائی دوں گا
میری دنیا میں فقط ایک "خدا" کافی ہے
دوستو! کتنے خداؤں کو خدائی دوں گا
دل کو میں قیدِ قفس سے تو بچا لے آیا
کب اسے قیدِ نشیمن سے رہائی دوں گا

چھوٹی سی بے رخی پہ شکایت کی بات ہے

چھوٹی سی بے رخی پہ شکایت کی بات ہے
اور وہ بھی اس لیے کہ محبت کی بات ہے
“میں نے کہا کہ ”آۓ ہو کتنے دنوں کے بعد
“کہنے لگے ”حضور یہ فرصت کی بات ہے
“میں نے کہا کہ ”مل کے بھی ہم کیوں نہ مل سکے
“کہنے لگے ”حضور یہ قسمت کی بات ہے

Thursday, 20 August 2020

دنیا میں پی کے خلد میں توبہ کریں گے ہم

یا رب تِرے کرم سے یہ سودا کریں گے ہم
دنیا میں پی کے خُلد میں توبہ کریں گے ہم
یوں رسمِ حسن و عشق کو رسوا کریں گے ہم
تم منتظر رہو گے،۔ نہ آیا کریں گے ہم
آئینے میں خود اپنا تماشا کریں گے ہم
یوں بھی شبِ فراق گزارا کریں گے ہم

ڈم ڈم ڈیگا ڈیگا موسم بھیگا بھیگا

فلمی گیت

ڈم ڈم ڈِیگا ڈِیگا، موسم بھیگا بھیگا
بِن پیۓ میں تو گِرا، میں تو گِرا
میں تو گِرا، ہائے اللہ
صورت آپ کی سبحان اللہ

تیری ادا واہ، واہ، کیا بات ہے
اکھیاں جھکی جھکی، باتیں رکی رکی
دیکھو کوئی رے آج لٹ گیا، ہائے اللہ
صورت آپ کی سبحان اللہ

Tuesday, 6 December 2016

ایک پردیسی میرا دل لے گیا جاتے جاتے میٹھا میٹھا غم دے گیا

فلمی گیت


ایک پردیسی میرا دل لے گیا، جاتے جاتے میٹھا میٹھا غم دے گیا
کون پردیسی تیرا دل لے گیا، موٹی موٹی اکھیوں میں آنسو دے گیا
میرے پردیسیا کی یہی ہے نشانی، اںکھیاں بلور کی شیشے کی جوانی
ٹھنڈی ٹھنڈی آہوں کا سلام دے گیا، جاتے جاتے میٹھا میٹھا غم دے گیا

کون پردیسی تیرا دل لے گیا، موٹی موٹی اکھیوں میں آںسو دے گیا
ڈھونڈ رہے ہیں لاکھوں دل والے، کر دے او گوری انکھیوں سے اجالے
انکھیوں کا اجالا پر دیسی لے گیا، جاتے جاتے میٹھا میٹھا غم دے گیا
کون پردیسی تیرا دل لے گیا، موٹی موٹی اکھیوں میں آنسو دے گیا

واعظ نہ سنے گا ساقی کی لالچ ہے اسے پیمانے کی

واعظ نہ سنے گا ساقی کی، لالچ ہے اسے پیمانے کی
مجھ سے ہوں اگر ایسی باتیں، میں نام نہ لوں میخانے کا
کیا جانے کہے گا کیا آ کر، ہے دور یہاں پیمانے کا
اللہ کرے واعظ کو کبھی، رستہ نہ ملے مۓ خانے کا
جنت میں پئے گا تو کیوں کر، اے شیخ یہاں گر مشق نہ کی
اب مانے نہ مانے تیری خوشی، ہے کام مِرا سمجھانے کا

یار آتا نظر نہیں آتا

یار آتا نظر نہیں آتا
درد جاتا نظر نہیں آتا
جھولی پھیلا چکے محبت کی
کوئی داتا نظر نہیں آتا
اب تو کوئی بھی کُوئے الفت میں
آتا جاتا نظر نہیں آتا 

Saturday, 26 December 2015

میں تو اک خواب ہوں اس خواب سے تو پیار نہ کر

فلمی گیت

میں تو اک خواب ہوں اس خواب سے تُو پیار نہ کر
پیار ہو جائے تو پھر پیار کا اظہار نہ کر
میں تو اک خواب ہوں ۔۔۔۔۔

یہ ہوائیں کبھی چپ چاپ چلی جائیں گی
لوٹ کے پھر کبھی گلشن میں نہیں آئیں گی
اپنے ہاتھوں میں خوابوں کو گرفتار نہ کر
میں تو اک خواب ہوں ۔۔۔۔۔

وہ پاس رہیں یا دور رہیں نظروں میں سمائے رہتے ہیں

فلمی گیت

وہ پاس رہیں یا دور رہیں نظروں میں سمائے رہتے ہیں
اتنا تو بتا دے کوئی ہمیں کیا پیار اسی کو کہتے ہیں
وہ پاس رہیں یا دور رہیں نظروں میں۔۔۔

چھوٹی سی بات محبت کی اور وہ بھی کہی نہیں جاتی
کچھ وہ شرمائے رہتے ہیں کچھ ہم شرمائے رہتے ہیں
وہ پاس رہیں یا دور رہیں نظروں میں سمائے رہتے ہیں
اتنا تو بتا دے کوئی ہمیں کیا پیار اسی کو کہتے ہیں

Sunday, 8 November 2015

ان کی طرف سے ترک ملاقات ہو گئی

ان کی طرف سے ترکِ ملاقات ہو گئی
ہم جس سے ڈر رہے تھے وہی بات ہو گئی
آئینہ دیکھنے میں نئی بات ہو گئی
ان سے ہی آج ان کی ملاقات ہو گئی
طے ان سے روزِ حشر ملاقات ہو گئی
اتنی سی بات کتنی بڑی بات ہو گئی

جمال رخ پہ ٹھہرتی نہیں نظر پھر بھی

جمالِ رخ پہ ٹھہرتی نہیں نظر پھر بھی
اتاری جاتی ہے ان کی نظر مگر پھر بھی
کوئی ٹھکانہ ہے شاید بدگمانی کا
قفس میں قید ہوں کاٹے ہیں میرے پر پھر بھی
ملال کر دلِ مضطر! نہ ان کے جانے کا
خُدا نے چاہا تو آئیں گے وہ اِدھر پھر بھی