Saturday, 22 August 2020

چھوٹی سی بے رخی پہ شکایت کی بات ہے

چھوٹی سی بے رخی پہ شکایت کی بات ہے
اور وہ بھی اس لیے کہ محبت کی بات ہے
“میں نے کہا کہ ”آۓ ہو کتنے دنوں کے بعد
“کہنے لگے ”حضور یہ فرصت کی بات ہے
“میں نے کہا کہ ”مل کے بھی ہم کیوں نہ مل سکے
“کہنے لگے ”حضور یہ قسمت کی بات ہے
“میں نے کہا کہ ”رہتے ہو ہر بات پر خفا
“کہنے لگے ”حضور یہ قربت کی بات ہے
“میں نے کہا کہ ”دیتے ہیں دل تم بھی لاؤ دل
“کہنے لگے کہ ”یہ تو تجارت کی بات ہے
“میں نے کہا ”کبھی ہے ستم اور کبھی کرم
“کہنے لگے کہ ”یہ تو طبیعت کی بات ہے

قمر جلال آبادی

No comments:

Post a Comment