غزل میں اور بھی لہجہ شدید لاؤں گا
قدیم دشت سے مجنوں جدید لاؤں گا
منافقت ہی کروں گا منافقین کے ساتھ
یزیدیت کے مقابل "یزید" لاؤں گا
غریب ہوں مگر اتنا غریب تھوڑی ہوں
تجھے مُکرنے نہيں دوں گا اب عدالت میں
میں تیرے ہاتھ کی لکھی رسید لاؤں گا
خرید لوں گا تِرا عشق بھی ہوس کے عوض
کہا نہيں تھا، بنا کر مرید لاؤں گا
برا سہی، مگر اتنی بری نہيں دنیا
تِرے لیے کوئی اچھی نوید لاؤں گا
یہ سال بھی اسی امید پر گزار دیا
کسی نے وعدہ کیا تھا کہ عید لاؤں گا
ابھی سے بھر گئے تالاب شہر کے عامی
ابھی تو گاؤں سے جگنو مزید لاؤں گا
عمران عامی
No comments:
Post a Comment