Saturday, 22 August 2020

قدیم دشت سے مجنوں جدید لاؤں گا

غزل میں اور بھی لہجہ شدید لاؤں گا
قدیم دشت سے مجنوں جدید لاؤں گا
منافقت ہی کروں گا منافقین کے ساتھ
یزیدیت کے مقابل "یزید" لاؤں گا
غریب ہوں مگر اتنا غریب تھوڑی ہوں
کھلونے بیچ کے روٹی خرید لاؤں گا
تجھے مُکرنے نہيں دوں گا اب عدالت میں
میں تیرے ہاتھ کی لکھی رسید لاؤں گا
خرید لوں گا تِرا عشق بھی ہوس کے عوض
کہا نہيں تھا، بنا کر مرید لاؤں گا
برا سہی، مگر اتنی بری نہيں دنیا
تِرے لیے کوئی اچھی نوید لاؤں گا
یہ سال بھی اسی امید پر گزار دیا
کسی نے وعدہ کیا تھا کہ عید لاؤں گا
ابھی سے بھر گئے تالاب شہر کے عامی
ابھی تو گاؤں سے جگنو مزید لاؤں گا

عمران عامی

No comments:

Post a Comment