غلط کہا تجھے لوگوں نے، جانے والے ہیں
ابھی تو ہم یہاں خیمے لگانے والے ہیں
جو لوگ تجھ سے محبت جتانے والے ہیں
یہ آستین میں رہ کر ستانے والے ہیں
یہ ملک خواب فروشوں کے ہاتھ لگ گیا ہے
تو پھر یہ جھوٹ کا بازار کیسے گرم ہوا
اگر یہاں ابھی پینے پلانے والے ہیں
یہ ایک دن تِری بینائی لے اڑیں گے میاں
تِرے دِیے کو جو سورج بتانے والے ہیں
فقیر بن کے جو یہ لوگ مل رہے ہیں تجھے
یہ بد قماش بھی دنیا کمانے والے ہیں
مِرے علاوہ بھی کچھ لوگ چاہتے ہیں اسے
مِرے علاوہ بھی ذلت اٹھانے والے ہیں
یہ شہرِ کشف و کرامات تھا، کبھی ہو گا
ابھی تو صرف تماشا دکھانے والے ہیں
کوئی وظیفہ کریں اور یہاں سے چل نکلیں
یہ لوگ آگ نہيں، دل جلانے والے ہیں
ابھی سے کیوں ہے پریشاں ہجومِ ہم سخناں
ابھی تو ہم نئی غزلیں سنانے والے ہیں
کہ عشق باز نہيں، عشق ساز ہیں عامی
ہم آستیں سے نہيں، آستانے والے ہیں
عمران عامی
No comments:
Post a Comment