مِرے شاہا! مِری تم سے شکایت پہلے جیسی ہے
کہ ہے درپیش جو مشکل، نہایت پہلے جیسی ہے
تمہی کو خاص رکھا ہے، تمہی مخصوص ٹھہرے ہو
جگہ اب بھی وہی پہلی، عنایت پہلے جیسی ہے
مِرے نسخے میں لکھ ڈالا فقط دیدار بس تیرا
شکایت پہلے جیسی ہے، ہدایت پہلے جیسی ہے
مِرے شاہا! مِری تم سے شکایت پہلے جیسی ہے
کہ ہے درپیش جو مشکل، نہایت پہلے جیسی ہے
تمہی کو خاص رکھا ہے، تمہی مخصوص ٹھہرے ہو
جگہ اب بھی وہی پہلی، عنایت پہلے جیسی ہے
مِرے نسخے میں لکھ ڈالا فقط دیدار بس تیرا
شکایت پہلے جیسی ہے، ہدایت پہلے جیسی ہے
رو برو ہونا ہوش کھو جانا
اب ہے مشکل کسی کا ہو جانا
میں ہوں بکھری ہوئی سی اک مالا
آ کے مجھ کو ذرا پِرو جانا
میرے خوابوں میں پھر سے آؤ گے
دے کے لالچ سکوں سے سو جانا
تم پہ نظم لکھنے سے تمہاری ہو نہیں سکتی
اگر میں تم پہ کچھ لکھتی
تمہیں میں کُل جہاں لکھتی
چمن لکھتی گھٹا لکھتی
تمہیں میں آسماں لکھتی
صبح لکھتی میں شاموں کی
تمہیں کوئی سنہرا سا سماں لکھتی
مِری مجبوریاں سمجھو
چلو منظور ہے مجھ کو
مجھے کچھ بھی سزا دے دو
سنو! گر مل نہیں پائے
تو اک دُوجے سے کہتے ہیں
کہ قسمت ہی کچھ ایسی تھی
ہمارا دوش ہی کب تھا
اتنی آساں نہ یہ رہائی تھی
جو تِرے ہجر میں کمائی تھی
غم سے نا آشنا وہ شہزادی
بے سبب تُو نے جو رُلائی تھی
اس کو عادت تھی چھوڑ جانے کی
میری قسمت میں بھی جدائی تھی
صنفِ اِسم
عادتیں ہی ایسی ہیں
اب اُسے کہیں کیسے
لب پہ ہر گھڑی، ہر پل
یاد، رنج، فریادیں
ہم اُداس نا بھی ہوں
مجھ کو اوقات مِری یاد دلانے والے
خیر ہو تیری مجھے چھوڑ کے جانے والے
سب کو موقع جو دیا باتیں تو ہوں گی ایسی
بات کرتے تو نہیں یونہی زمانے والے
اپنا کہنا تھا تو پھر اپنا بنایا ہوتا
صرف کہتے ہی نہیں کر کے دِکھانے والے
سانسیں کہتی ہیں اب خدارا بس
اور کتنا سہوں خسارا، بس
تم کو پھر جگ سے چھین لیتے ہم
کاش چلتا اگر ہمارا بس
سب ہی ہمدرد ہیں جدھر دیکھوں
کوئی بنتا نہیں سہارا بس
آپ ہم سے نہ ہوں جدا مرشد
ساتھ چاہے یہ دل سدا مرشد
جس کو آتی نہ ہو نبھانی، وہ
سیکھ لے آپ سے وفا مرشد
وہ گھڑی چین سے نہیں کٹتی
آپ ہوتے ہیں جب خفا مرشد