Showing posts with label عالیہ شاہ. Show all posts
Showing posts with label عالیہ شاہ. Show all posts

Wednesday, 20 April 2022

مرے شاہا مری تم سے شکایت پہلے جیسی ہے

 مِرے شاہا! مِری تم سے شکایت پہلے جیسی ہے

کہ ہے درپیش جو مشکل، نہایت پہلے جیسی ہے

تمہی کو خاص رکھا ہے، تمہی مخصوص ٹھہرے ہو

جگہ اب بھی وہی پہلی، عنایت پہلے جیسی ہے

مِرے نسخے میں لکھ ڈالا فقط دیدار بس تیرا

شکایت پہلے جیسی ہے، ہدایت پہلے جیسی ہے

Thursday, 8 July 2021

روبرو ہونا ہوش کھو جانا

 رو برو ہونا ہوش کھو جانا

اب ہے مشکل کسی کا ہو جانا

میں ہوں بکھری ہوئی سی اک مالا

آ کے مجھ کو ذرا پِرو جانا

میرے خوابوں میں پھر سے آؤ گے

دے کے لالچ سکوں سے سو جانا

Friday, 2 July 2021

اگر میں تم پہ کچھ لکھتی تمہیں میں کل جہاں لکھتی

 تم پہ نظم لکھنے سے تمہاری ہو نہیں سکتی


اگر میں تم پہ کچھ لکھتی

تمہیں میں کُل جہاں لکھتی

چمن لکھتی گھٹا لکھتی

تمہیں میں آسماں لکھتی

صبح لکھتی میں شاموں کی

تمہیں کوئی سنہرا سا سماں لکھتی

Friday, 25 June 2021

مری مجبوریاں سمجھو

مِری مجبوریاں سمجھو


 چلو منظور ہے مجھ کو

مجھے کچھ بھی سزا دے دو

سنو! گر مل نہیں پائے

تو اک دُوجے سے کہتے ہیں

کہ قسمت ہی کچھ ایسی تھی

ہمارا دوش ہی کب تھا

Tuesday, 27 April 2021

اتنی آساں نہ یہ رہائی تھی

 اتنی آساں نہ یہ رہائی تھی

جو تِرے ہجر میں کمائی تھی

غم سے نا آشنا وہ شہزادی

بے سبب تُو نے جو رُلائی تھی

اس کو عادت تھی چھوڑ جانے کی

میری قسمت میں بھی جدائی تھی

Sunday, 25 April 2021

صنف اسم

 صنفِ اِسم


عادتیں ہی ایسی ہیں

اب اُسے کہیں کیسے

لب پہ ہر گھڑی، ہر پل

یاد، رنج، فریادیں

ہم اُداس نا بھی ہوں

Saturday, 24 April 2021

مجھ کو اوقات مری یاد دلانے والے

 مجھ کو اوقات مِری یاد دلانے والے

خیر ہو تیری مجھے چھوڑ کے جانے والے

سب کو موقع جو دیا باتیں تو ہوں گی ایسی

بات کرتے تو نہیں یونہی زمانے والے

اپنا کہنا تھا تو پھر اپنا بنایا ہوتا

صرف کہتے ہی نہیں کر کے دِکھانے والے

Sunday, 6 December 2020

سانسیں کہتی ہیں اب خدارا بس

 سانسیں کہتی ہیں اب خدارا بس

اور کتنا سہوں خسارا، بس

تم کو پھر جگ سے چھین لیتے ہم

کاش چلتا اگر ہمارا بس

سب ہی ہمدرد ہیں جدھر دیکھوں

کوئی بنتا نہیں سہارا بس

آپ ہم سے نہ ہوں جدا مرشد

 آپ ہم سے نہ ہوں جدا مرشد

ساتھ چاہے یہ دل سدا مرشد

جس کو آتی نہ ہو نبھانی، وہ

سیکھ لے آپ سے وفا مرشد

وہ گھڑی چین سے نہیں کٹتی

آپ ہوتے ہیں جب خفا مرشد