Saturday, 24 April 2021

مجھ کو اوقات مری یاد دلانے والے

 مجھ کو اوقات مِری یاد دلانے والے

خیر ہو تیری مجھے چھوڑ کے جانے والے

سب کو موقع جو دیا باتیں تو ہوں گی ایسی

بات کرتے تو نہیں یونہی زمانے والے

اپنا کہنا تھا تو پھر اپنا بنایا ہوتا

صرف کہتے ہی نہیں کر کے دِکھانے والے

آ گئیں کیسے بتا تجھ کو میسر نیندیں

میری آنکھوں سے مِرے خواب چرانے والے

کاش وہ دن ہی نہ شامل ہو مِرے جیون میں

جب تو روئے گا کبھی مجھ کو رُلانے والے

تم کو کچھ علم بھی ہے بھولی سی صورت والے

ہاتھ کرتے ہیں تمہیں ہاتھ دِکھانے والے

ساری بے چینیوں کو دل میں سمو ڈالا ہے

کچھ تو رکھتے ناں سکوں اس کو بنانے والے

اتنا روتی ہوں کہ پھر نیند بھی روتی ہے مجھے

خواب آتے ہیں مجھے خواب نہ آنے والے

تیرے ہجراں میں تصاویر سے بہلی تھی میں

اور کیا کرتی بتا رُوٹھ کے جانے والے

سب جو کہتے ہیں مجھے تیری برا کیا ہے پھر

مجھ کو سب اچھے لگے تیری بتانے والے


عالیہ شاہ

No comments:

Post a Comment