در کھلے تھے آنکھ کی دہلیز تک تم آ گئے
تم مِرے خوابوں کی دنیا میں مکمل چھا گئے
ضبط کی گرہیں کھلیں ہاتھوں سے میرے اس طرح
ریزہ ریزہ خواہشوں کے عکس بھی دھندلا گئے
بارشیں کچھ اس طرح سے تیز اب ہونے لگیں
یعنی سب کچے مکاں پانی کی زد میں آ گئے
در کھلے تھے آنکھ کی دہلیز تک تم آ گئے
تم مِرے خوابوں کی دنیا میں مکمل چھا گئے
ضبط کی گرہیں کھلیں ہاتھوں سے میرے اس طرح
ریزہ ریزہ خواہشوں کے عکس بھی دھندلا گئے
بارشیں کچھ اس طرح سے تیز اب ہونے لگیں
یعنی سب کچے مکاں پانی کی زد میں آ گئے
تجھ کو چھوتے ہوئے جو بادِ صبا آئی ہے
ایسی خوشبو کی جہاں بھر میں پذیرائی ہے
تیرا مسکن ہے گلابوں کی سہانی بستی
میرے رہنے کو فقط گوشۂ تنہائی ہے
ہے پذیرائی تیرے نقشِ قدم کی ہر سو
میرا ہونا ہی مجھے باعثِ رسوائی ہے
دکھ پرایا ہو یا اپنا نہیں دیکھا جاتا
رونے والا کوئی چہرہ نہیں دیکھا جاتا
سوچنا پڑتا ہے سو بار مگر جب ہو جائے
پھر محبت میں خسارہ نہیں دیکھا جاتا
میں تو فرقت میں کسی وقت بھی مر سکتی ہوں
خود کو اب اور اکیلا نہیں دیکھا جاتا
دل میں ہر درد کو جگہ دی ہے
اس محبت نے کیا سزا دی ہے
جب بھی بجھنے لگے غموں کے چراغ
اپنے دامن سے پھر ہوا دی ہے
تجھ کو ڈھونڈا گلی گلی میں نے
بستی بستی تجھے صدا دی ہے
روشنی دل میں وہ کہاں ہے اب
آرزوؤں کا بس دھواں ہے اب
دل کے آنگن میں تیری یادوں کا
ایک ہلکا سا گماں ہے اب
بدگماں تھی کبھی زمیں مجھ سے
میرا دشمن یہ آسماں ہے اب
تم بھی ہمدم کمال کرتے ہو
جانے کیا کیا سوال کرتے ہو
اپنی یادوں سے اپنی باتوں سے
میرا جینا محال کرتے ہو
لوٹ آتے ہو میرے خوابوں میں
میری آنکھیں نڈھال کرتے ہو
وقت مجھ کو کہاں لے آیا
مجھ سے باغی ہوا میرا سایا
کوئی ایسا نقیب آئے جو
چھین لے مجھ سے سارا سرمایا
تیری یادوں نے پھر کروٹ لی
میرا دل آج پھر گھبرایا
اسے اتنا ہی سمجھاؤ محبت مر نہیں سکتی
اسے واپس بلا لاؤ، محبت مر نہیں سکتی
یہی اپنا عقیدہ ہے، یہی ہے تجربہ اپنا
کسی کو بھول بھی جاؤ محبت مر نہیں سکتی
ہماری ذات سے نفرت ہے اس کی عادت لیکن
ہمیں جتنا بھی تڑپاؤ، محبت مر نہیں سکتی