Showing posts with label تمثیلہ لطیف. Show all posts
Showing posts with label تمثیلہ لطیف. Show all posts

Friday, 19 November 2021

در کھلے تھے آنکھ کی دہلیز تک تم آ گئے

 در کھلے تھے آنکھ کی دہلیز تک تم آ گئے

تم مِرے خوابوں کی دنیا میں مکمل چھا گئے

ضبط کی گرہیں کھلیں ہاتھوں سے میرے اس طرح

ریزہ ریزہ خواہشوں کے عکس بھی دھندلا گئے

بارشیں کچھ اس طرح سے تیز اب ہونے لگیں

یعنی سب کچے مکاں پانی کی زد میں آ گئے

Sunday, 14 November 2021

تجھ کو چھوتے ہوئے جو باد صبا آئی ہے

 تجھ کو چھوتے ہوئے جو بادِ صبا آئی ہے

ایسی خوشبو کی جہاں بھر میں پذیرائی ہے

تیرا مسکن ہے گلابوں کی سہانی بستی

میرے رہنے کو فقط گوشۂ تنہائی ہے

ہے پذیرائی تیرے نقشِ قدم کی ہر سو

میرا ہونا ہی مجھے باعثِ رسوائی ہے

Thursday, 11 November 2021

دکھ پرایا ہو یا اپنا نہیں دیکھا جاتا

 دکھ پرایا ہو یا اپنا نہیں دیکھا جاتا

رونے والا کوئی چہرہ نہیں دیکھا جاتا

سوچنا پڑتا ہے سو بار مگر جب ہو جائے

پھر محبت میں خسارہ نہیں دیکھا جاتا

میں تو فرقت میں کسی وقت بھی مر سکتی ہوں

خود کو اب اور اکیلا نہیں دیکھا جاتا

Wednesday, 10 November 2021

دل میں ہر درد کو جگہ دی ہے

 دل میں ہر درد کو جگہ دی ہے

اس محبت نے کیا سزا دی ہے

جب بھی بجھنے لگے غموں کے چراغ

اپنے دامن سے پھر ہوا دی ہے

تجھ کو ڈھونڈا گلی گلی میں نے

بستی بستی تجھے صدا دی ہے

Friday, 5 November 2021

روشنی دل میں وہ کہاں ہے اب

 روشنی دل میں وہ کہاں ہے اب

آرزوؤں کا بس دھواں ہے اب

دل کے آنگن میں تیری یادوں کا

ایک ہلکا سا گماں ہے اب

بدگماں تھی کبھی زمیں مجھ سے

میرا دشمن یہ آسماں ہے اب

Thursday, 4 November 2021

تم بھی ہمدم کمال کرتے ہو

 تم بھی ہمدم کمال کرتے ہو

جانے کیا کیا سوال کرتے ہو

اپنی یادوں سے اپنی باتوں سے 

میرا جینا محال کرتے ہو 

لوٹ آتے ہو میرے خوابوں میں 

میری آنکھیں نڈھال کرتے ہو 

Wednesday, 3 November 2021

وقت مجھ کو کہاں لے آیا

 وقت مجھ کو کہاں لے آیا

مجھ سے باغی ہوا میرا سایا

کوئی ایسا نقیب آئے جو

چھین لے مجھ سے سارا سرمایا

تیری یادوں نے پھر کروٹ لی

میرا دل آج پھر گھبرایا

Tuesday, 2 November 2021

اسے اتنا ہی سمجھاؤ محبت مر نہیں سکتی

 اسے اتنا ہی سمجھاؤ محبت مر نہیں سکتی

اسے واپس بلا لاؤ، محبت مر نہیں سکتی

یہی اپنا عقیدہ ہے، یہی ہے تجربہ اپنا

کسی کو بھول بھی جاؤ محبت مر نہیں سکتی

ہماری ذات سے نفرت ہے اس کی عادت لیکن

ہمیں جتنا بھی تڑپاؤ، محبت مر نہیں سکتی