تم بھی ہمدم کمال کرتے ہو
جانے کیا کیا سوال کرتے ہو
اپنی یادوں سے اپنی باتوں سے
میرا جینا محال کرتے ہو
لوٹ آتے ہو میرے خوابوں میں
میری آنکھیں نڈھال کرتے ہو
زخم دیتے ہو اپنی یادوں کے
کتنا مشکل یہ حال کرتے ہو
ایک پل میں جو ٹوٹ جاتے ہیں
کیوں وہ رشتے بحال کرتے ہو
لوٹ آتے ہو تم دسمبر میں
میرا کتنا خیال کرتے ہو
تمثیلہ لطیف
No comments:
Post a Comment