Thursday, 4 November 2021

تم بھی ہمدم کمال کرتے ہو

 تم بھی ہمدم کمال کرتے ہو

جانے کیا کیا سوال کرتے ہو

اپنی یادوں سے اپنی باتوں سے 

میرا جینا محال کرتے ہو 

لوٹ آتے ہو میرے خوابوں میں 

میری آنکھیں نڈھال کرتے ہو 

زخم دیتے ہو اپنی یادوں کے 

کتنا مشکل یہ حال کرتے ہو 

ایک پل میں جو ٹوٹ جاتے ہیں 

کیوں وہ رشتے بحال کرتے ہو 

لوٹ آتے ہو تم دسمبر میں 

میرا کتنا خیال کرتے ہو 


تمثیلہ لطیف

No comments:

Post a Comment