Thursday, 4 November 2021

نہ منزل سے نہ منزل کا نشاں تک

 نہ منزل سے نہ منزل کا نشاں تک

جنوں لے جائے گا آخر کہاں تک

جہاں ممنوع ہے شغلِ فغاں تک

وہاں شکوے اگر آئے زباں تک

نہ اُٹھواؤ ہمیں محفل سے اپنی

بڑی مشکل سے آئے ہیں یہاں تک

تمہیں محسوس ہو گا ساتھ ہوں میں

مجھے عالم میں ڈھونڈو گے جہاں تک

ہم ان راہوں پہ تنہا چل رہے ہیں

جہاں گم ہو گئے ہیں کارواں تک

قفس ہی میں بہت اچھے تھے بسمل

ملا کیا آ کے اُجڑے آشیاں تک


بسمل آغائی

No comments:

Post a Comment