Showing posts with label دانش اثری. Show all posts
Showing posts with label دانش اثری. Show all posts

Wednesday, 30 March 2022

نکلا ہے چاند شب کی ملاقات بھی گئی

 نکلا ہے چاند، شب کی ملاقات بھی گئی

یعنی، حضور! طرزِ عنایات بھی گئی

اس نے سبھی وصال کے وعدے، بھلا دئیے

سو بات کی تھی ایک جو، وہ بات بھی گئی

اس نے کسی کو اپنا مقابل بنا لیا

شہ تو گئی تھی پہلے ہی، اب مات بھی گئی

Tuesday, 8 March 2022

دست قاتل میں حنا رنگ لہو کس کا ہے

 دستِ قاتل میں حنا رنگ لہو کس کا ہے

ٹوٹ کر بکھرا ہوا جام و سبو کس کا ہے

کس کی چیخیں مِری راتوں میں بھٹک جاتی ہیں

پوچھ کر دیکھ ذرا، نعرۂ ہُو کس کا ہے

اب عبادات بھی بندوں کی ہوا کرتی ہیں

کون کرتا ہے وضو، ظرفِ وضو کس کا ہے

Sunday, 20 February 2022

سارے غرور توڑ کے گھٹنوں پہ آئے تھے

 سارے غرور توڑ کے گھٹنوں پہ آئے تھے

اور اس کے باوجود بھی دھوکے ہی کھائے تھے

رِستے ہیں خون آج بھی ان سب سے مستقل

جو زخم تو نے دل پہ ہمارے لگائے تھے

تو ساتھ کیسے تھی، یہ پتا ہی نہیں چلا

ہمراہ اپنے، تنہا شبی کے ہی سائے تھے

Wednesday, 16 February 2022

عرفان والی مے کے بلا نوش ہو گئے

 عرفان والی مے کے بلا نوش ہو گئے

باطل کے سامنے وہی پُر جوش ہو گئے

تیر و تفنگ و تیغ کی باتیں زبان پر

وقت آ پڑا تو زینتِ آغوش ہو گئے

جغرافیہ بچا نہ سکے جو بھی دہر میں

تاریخ کہہ رہی ہے؛ فراموش ہو گئے

Tuesday, 15 February 2022

خدائے برتر تو اپنی تخلیق کو بچا لے

 ٹریک پر خون


خدائے برتر

زمین تیری

ہمارے ہی خوں سے تر بہ تر ہے

یہ مانا تُو نے زمیں بنائی

تُو اس کا خالق، تُو اس کا مالک

Monday, 14 February 2022

ارے پگلی تجھے مجھ سے محبت تھی

 تعلق


ارے پگلی

تجھے مجھ سے محبت تھی

تو پھر مجھ سے کہا ہوتا

تِرا یہ رات بھر جگنا

یونہی بے چین سی رہنا

مگر سب کچھ چھپا لینا