نکلا ہے چاند، شب کی ملاقات بھی گئی
یعنی، حضور! طرزِ عنایات بھی گئی
اس نے سبھی وصال کے وعدے، بھلا دئیے
سو بات کی تھی ایک جو، وہ بات بھی گئی
اس نے کسی کو اپنا مقابل بنا لیا
شہ تو گئی تھی پہلے ہی، اب مات بھی گئی
نکلا ہے چاند، شب کی ملاقات بھی گئی
یعنی، حضور! طرزِ عنایات بھی گئی
اس نے سبھی وصال کے وعدے، بھلا دئیے
سو بات کی تھی ایک جو، وہ بات بھی گئی
اس نے کسی کو اپنا مقابل بنا لیا
شہ تو گئی تھی پہلے ہی، اب مات بھی گئی
دستِ قاتل میں حنا رنگ لہو کس کا ہے
ٹوٹ کر بکھرا ہوا جام و سبو کس کا ہے
کس کی چیخیں مِری راتوں میں بھٹک جاتی ہیں
پوچھ کر دیکھ ذرا، نعرۂ ہُو کس کا ہے
اب عبادات بھی بندوں کی ہوا کرتی ہیں
کون کرتا ہے وضو، ظرفِ وضو کس کا ہے
سارے غرور توڑ کے گھٹنوں پہ آئے تھے
اور اس کے باوجود بھی دھوکے ہی کھائے تھے
رِستے ہیں خون آج بھی ان سب سے مستقل
جو زخم تو نے دل پہ ہمارے لگائے تھے
تو ساتھ کیسے تھی، یہ پتا ہی نہیں چلا
ہمراہ اپنے، تنہا شبی کے ہی سائے تھے
عرفان والی مے کے بلا نوش ہو گئے
باطل کے سامنے وہی پُر جوش ہو گئے
تیر و تفنگ و تیغ کی باتیں زبان پر
وقت آ پڑا تو زینتِ آغوش ہو گئے
جغرافیہ بچا نہ سکے جو بھی دہر میں
تاریخ کہہ رہی ہے؛ فراموش ہو گئے
ٹریک پر خون
خدائے برتر
زمین تیری
ہمارے ہی خوں سے تر بہ تر ہے
یہ مانا تُو نے زمیں بنائی
تُو اس کا خالق، تُو اس کا مالک
تعلق
ارے پگلی
تجھے مجھ سے محبت تھی
تو پھر مجھ سے کہا ہوتا
تِرا یہ رات بھر جگنا
یونہی بے چین سی رہنا
مگر سب کچھ چھپا لینا