مٹا کر ہی چھوڑے گی یادِ حبیب
یہ کانٹا کھٹکتا ہے دل کے قریب
بہت انقلابات آتے رہے
محبت کا لیکن نہ بدلا نصیب
فقط اک محبت ہے آگاہِ راز
نہ وہ دُور ہیں اور نہ مجھ سے قریب
نظر واقفِ رازِ غم چاہیے
کہ خُود دل ہے دردِ نہاں کا طبیب
بہاروں میں کچھ اور بڑھتا ہے غم
مِری زندگی بھی ہے کتنی عجیب
کوئی صُورتِ مستقل چاہیے
یہ کیا ہے کوئی خُوش کوئی غم نصیب
وہ رونق مِرے غم کدے کی بنیں
مِرے ہوش ایسے کہاں ہیں نصیب
ہوش بلگرامی
نواب ہوش یار جنگ
No comments:
Post a Comment