ہم خدا کہتے ہیں سب جس کو صنم کہتے ہیں
تم نہ کہنا اسے اللہ جو ہم کہتے ہیں
رنج کہتے ہیں کسے کس کو الم کہتے ہیں
ہم تو اس کو بھی تِرا فضل و کرم کہتے ہیں
پڑ کے بیمار عیادت کو بلایا تجھ کو
دیکھ او رشک مسیحا اسے دم کہتے ہیں
لوگ دیتے ہیں تِرے قد کو علم سے تشبیہ
ہم تِری زلف کو دامان علم کہتے ہیں
سر بھی کٹ جائے تو اے یار نہ کھائیں کبھی ہم
جس کو کہتے ہیں قسم ہم اسے سم کہتے ہیں
جو جنازہ ہے وہ انساں کو نصیحت گر ہے
وعظ کیا راہرو ملک عدم کہتے ہیں
قصۂ عشق کو کب ایک زباں کافی ہے
کبھی کرتے ہیں بیاں وہ کبھی ہم کہتے ہیں
چشم و ابروئے بتاں شیخ و برہمن دیکھیں
دیر کہتے ہیں اسے اس کو حرم کہتے ہیں
صفت کاتبِ تقدیر کے لکھنے والے
عرصۂ حشر کو میدانِ قلم کہتے ہیں
کیف ہے یاد جنہیں کلمۂ موتو ہر دم
اپنی اس ہستئ فانی کو عدم کہتے ہیں
کیف ٹونکی
عالمگیر خان کیف
No comments:
Post a Comment