سفر میں ہم اکیلے تو نہیں تھے
محبت تھی جھمیلے تو نہیں تھے
ہمارے دل میں ان کی چاہ تھی بس
ہم ان کے دل سے کھیلے تو نہیں تھے
نمی اس روز تھی چند آنسوؤں کی
ان آنکھوں میں یہ ریلے تو نہیں تھے
تقاضا کر رہے ہیں سب ہی لیکن
وہ فاقے سب نے جھیلے تو نہیں تھے
تھا منظر مختلف کچھ سبز کل تک
ہتھیلی پر یہ ڈھیلے تو نہیں تھے
احسان سبز
No comments:
Post a Comment