Saturday, 18 July 2026

ہم ان کے دل سے کھیلے تو نہیں تھے

 سفر میں ہم اکیلے تو نہیں تھے

محبت تھی جھمیلے تو نہیں تھے

ہمارے دل میں ان کی چاہ تھی بس

ہم ان کے دل سے کھیلے تو نہیں تھے

نمی اس روز تھی چند آنسوؤں کی

ان آنکھوں میں یہ ریلے تو نہیں تھے

تقاضا کر رہے ہیں سب ہی لیکن

وہ فاقے سب نے جھیلے تو نہیں تھے

تھا منظر مختلف کچھ سبز کل تک

ہتھیلی پر یہ ڈھیلے تو نہیں تھے


احسان سبز

No comments:

Post a Comment