بول نہ اے مِرے بھگوان نہیں ہو سکتا
راستہ زیست کا آسان نہیں ہو سکتا
جس نے لُوٹا ہو غریبوں کو مسیحا بن کر
کچھ بھی ہو چاہے وہ انسان نہیں ہو سکتا
حاکمِ شہر کے ہر داؤ سے واقف ہوا میں
اب کسی داؤں پہ حیران نہیں ہو سکتا
پڑھ کے تم ناد علی وار کرو دشمن پر
وار بے کار ہو امکان نہیں ہو سکتا
لاکھ تُو شعر کہے لاکھ کتابیں چھاپے
تُو کبھی صاحب دیوان نہیں ہو سکتا
اظہر سجاد
No comments:
Post a Comment