Sunday, 5 July 2026

اس سے پہلے كہ سال کی آخری شام تمام ہو

 اِس سے پہلے كہ سال کی آخری شام تمام ہو

اور تُو بھی مصروف نو ایام ہو

اِس سے پہلے کہ میں زیست گروی رکھ دوں

کسی اور کے پاس

اِس سے پہلے کہ تیرے ہاتھوں کا لمس

تیرے لبوں کی مسیحائی اور تیرے لہجے کی پزیرائی

ہار دوں کہیں اور

مانا دوست کہ ہجر تو اب مقدر ٹھہرا

مگر اِس سے پہلے کہ ہم بچھڑ جائیں

ہماری راہیں مخالف سمت میں مُڑ جائیں

اک بار یوں آنكھوں میں آنکھیں ڈالو كے وقت تھم جائے

اور تمہارا عکس ہمیشہ كے لیے پُتلی میں جام جائے

آؤ وقت كے دامن سے محبت كے چند لمحے چُرا کر

کہیں چُھپا لیں

صحرائے زیست میں جب بھی بگُولے اُٹھائیں

پِھر ان امر لمحوں کی چادر اوڑھ کر ہم

حالات كی ریت سے اپنی آنکھیں چُھپا لیں


انجم عزیز عباس

No comments:

Post a Comment