Saturday, 4 July 2026

بت کے پردے میں خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بت کے پردے میں خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا 

لعل پتھر میں چھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا 

ڈھونڈتا میں رہا تسبیح کے دانوں میں اسے 

ذرہ ذرہ میں خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا 

دل نے جا جا کے کیے لاکھوں طواف کعبہ 

اور وہ دل میں چھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا 

اسم احمدﷺ میں احد آپ چھپا بیٹھا تھا 

میم کا پردہ پڑا تھا مجھے معلوم نہ تھا 

لے کے دل غیر کا وہ دل میں مرے آ بیٹھا 

گھر میں اک چور چھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا 

ہوش آتے ہی یہ موسیٰ کی زباں سے نکلا 

طور پہ نور خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا 

کس نے چونکا دیا کیوں ہوش میں آیا اصغر

بیخودی میں ہی مزا تھا مجھے معلوم نہ تھا


اصغر نظامی 

No comments:

Post a Comment