موجِ دریا
اے حسیں ساحل مگر سوتا ہے تُو
تیرے حُسنِ بے خبر پر میری بیداری نثار
میرے قطروں کی جبیں
مضطرب سجدوں کی دنیائے ناز
آستانِ ناز پر زوقِ عبادت کا ہجوم
موجِ دریا
اے حسیں ساحل مگر سوتا ہے تُو
تیرے حُسنِ بے خبر پر میری بیداری نثار
میرے قطروں کی جبیں
مضطرب سجدوں کی دنیائے ناز
آستانِ ناز پر زوقِ عبادت کا ہجوم
محبت
محبت غم ہے
عشق اک روگ ہے
یہ کج نگاہی اہلِ دنیا کی
تمہیں ذوقِ تصوف اور کچھ شاید کہے لیکن
مجھے باور کرو گی
کتبہ
شیر دل خاں
میں نے دیکھے تیس سال
پے بہ پے فاقے مسلسل ذلتیں
جنگ
روٹی
سامراجی بیڑیوں کو وسعتیں دینے کا فرض
قرباں گاہِ امن
کھیت سوتے ہیں
فضا میں کرگسوں کا ایک جھُنڈ
تیرتا آتا ہے منڈلاتا ہوا
سوئی زمیں
آنکھ میں تنہائیوں کی وُسعتیں
جھونپڑی میں ایک ماں
چاند آج کی رات نہیں نکلا
وہ اپنے لحافوں کے اندر چہرے کو چھپائے بیٹھا ہے
وہ آج کی رات نہ نکلے گا
یہ رات بلا کی کالی رات
تارے اسے جا کے بلائیں گے
صحرا اسے آوازیں دے گا