Tuesday, 15 June 2021

چاند آج کی رات نہیں نکلا

 چاند آج کی رات نہیں نکلا

وہ اپنے لحافوں کے اندر چہرے کو چھپائے بیٹھا ہے

وہ آج کی رات نہ نکلے گا

یہ رات بلا کی کالی رات

تارے اسے جا کے بلائیں گے

صحرا اسے آوازیں دے گا

بحر اور پہاڑ پکاریں گے

لیکن اس نیند کے ماتے پر کچھ ایسا نیند کا جادو ہے

وہ آج کی رات نہ نکلے گا

یہ رات بلا کی کالی رات

مغرب کی ہوائیں چیخیں گی بحر اپنا راگ الاپے گا

سائیں سائیں

تاریکی میں چپکے چپکے سنسان بھیانک ریتے پر

بڑھتا بڑھتا ہی جائے گا

موجوں کی مسلسل یورش میں

وہ گیت برابر گاتے ہوئے

جو کوئی نہیں اب تک سمجھا

سبزے میں ہوئی کچھ جنبش سی

وہ کانپا

آہیں بھرنے لگا

چاند آج کی رات نہیں نکلا

بھیڑیں سر نیچے ڈالے ہوئے

چپ چاپ آنکھوں کو بند کئے

میداں کی اداس خموشی میں فطرت کی کھلی چھت کے نیچے

کیوں سہمی سہمی پھرتی ہیں

اور باہم سمٹی جاتی ہیں

چاند آج کی رات نہیں نکلا

چاند آج کی رات نہ نکلے گا


تصدق حسین خالد

No comments:

Post a Comment