جانچ لینا، فِروتنی تو نہیں
فقر میں ہی قلندری تو نہیں
صرف کہہ دینا ہم تمہارے ہیں
کوئی اندازِ دلبری تو نہیں
سر جھکا کر جو مان لیتے ہو
اس کے احکام نادری تو نہیں
عشق ہو گا مجھے دوبارہ بھی
یہ تجربہ کوئی آخری تو نہیں
اس کے سپنے خرید کرنے ہیں
عاریتاً، وہ بیچتی تو نہیں
اس کا مُسکا کے یک نظر تکنا
یہ مقدر کی یاوری تو نہیں
مصرع بندی کو غزل کہتے ہو
قافیہ سنجی شاعری تو نہیں
کیا محبت اسے کُمیل سے ہے
کوئی سمجھائے، باؤلی تو نہیں
کمیل جعفری
No comments:
Post a Comment