Tuesday, 15 June 2021

خواب ڈستے رہے بکھرتے رہے

 خواب ڈستے رہے بکھرتے رہے

کرب کے لمحے یوں گزرتے رہے

کھو گئے یار ہمسفر بچھڑے

دل میں دکھ ہجر کے اترتے رہے

ہے یہی ایک زیست کا درماں

اشک آنکھوں کے دل میں گرتے رہے

چھا گئیں ظلمتیں زمانے میں

لاشے ہر سمت ہی بکھرتے رہے

لاکھ ہم تجھ کو بھولنا چاہیں

نقش مٹ مٹ کے پھر ابھرتے رہے

درد کی چوٹ دل پہ پڑتی رہی

ہر گھڑی زخم دل نکھرتے رہے


طاہرہ جبین تارا

No comments:

Post a Comment