Showing posts with label دانش درانی. Show all posts
Showing posts with label دانش درانی. Show all posts

Saturday, 6 June 2026

خدا کے ہاں جب موازنۂ امم ہوا ہے

 خدا کے ہاں جب موازنۂ اُمم ہوا ہے

علیؑ کے بندوں کا نام پہلے رقم ہوا ہے

کہ گھر کے ملنے پہ جتنا ہوتا غریب ہے خوش

مِرے جنم پر بھی اُتنا ہی خوش اَلم ہوا ہے

غموں کی تعداد سے مجھے اب یہ لگ رہا ہے

یہ دل ہے کعبہ کہ سینہ صحنِ حرم ہوا ہے

Thursday, 23 October 2025

سمے کی ڈور پکڑتے ہی جھوٹ بولے ہیں

 سمے کی ڈور پکڑتے ہی جھُوٹ بولے ہیں

ہوا کی سمت سے لڑتے ہی جھوٹ بولے ہیں

تمہارے بعد کسی کا بھی دل نہیں توڑا

تمہارے بعد تو سب سے ہی جھوٹ بولے ہیں

تِرے بغیر نہ رہ سکنے والا آخری تھا

پھر اس کے بعد تو اچھے ہی جھوٹ بولے ہیں

Wednesday, 7 August 2024

اصلی مجرم خود ہی تھانیدار تھا

 اصلی مجرم خُود ہی تھانیدار تھا

میرا دُشمن بھی پُرانا یار تھا

روز کوئی ڈُوب کے مر جاتا تھا

اور تیرا گھر بھی دریا پار تھا

جیب میری پیسوں سے خالی ہوئی

ہاں مگر اس کو تو مجھ سے پیار تھا

Tuesday, 9 March 2021

ایک ہم نے کام ایسا کر لیا ہے

ایک ہم نے کام ایسا کر لیا ہے

دوسرا تم پر بھروسہ کر لیا ہے

باغ سے کچھ پھُول چوری کر لیے تھے

تجھ کو چھُو کر بوجھ ہلکا کر لیا ہے

میں خدا کا ہونے ہی والا تھا لیکن 

اک بشر نے مجھ کو اپنا کر لیا ہے