خدا کے ہاں جب موازنۂ اُمم ہوا ہے
علیؑ کے بندوں کا نام پہلے رقم ہوا ہے
کہ گھر کے ملنے پہ جتنا ہوتا غریب ہے خوش
مِرے جنم پر بھی اُتنا ہی خوش اَلم ہوا ہے
غموں کی تعداد سے مجھے اب یہ لگ رہا ہے
یہ دل ہے کعبہ کہ سینہ صحنِ حرم ہوا ہے
خدا کے ہاں جب موازنۂ اُمم ہوا ہے
علیؑ کے بندوں کا نام پہلے رقم ہوا ہے
کہ گھر کے ملنے پہ جتنا ہوتا غریب ہے خوش
مِرے جنم پر بھی اُتنا ہی خوش اَلم ہوا ہے
غموں کی تعداد سے مجھے اب یہ لگ رہا ہے
یہ دل ہے کعبہ کہ سینہ صحنِ حرم ہوا ہے
سمے کی ڈور پکڑتے ہی جھُوٹ بولے ہیں
ہوا کی سمت سے لڑتے ہی جھوٹ بولے ہیں
تمہارے بعد کسی کا بھی دل نہیں توڑا
تمہارے بعد تو سب سے ہی جھوٹ بولے ہیں
تِرے بغیر نہ رہ سکنے والا آخری تھا
پھر اس کے بعد تو اچھے ہی جھوٹ بولے ہیں
اصلی مجرم خُود ہی تھانیدار تھا
میرا دُشمن بھی پُرانا یار تھا
روز کوئی ڈُوب کے مر جاتا تھا
اور تیرا گھر بھی دریا پار تھا
جیب میری پیسوں سے خالی ہوئی
ہاں مگر اس کو تو مجھ سے پیار تھا
ایک ہم نے کام ایسا کر لیا ہے
دوسرا تم پر بھروسہ کر لیا ہے
باغ سے کچھ پھُول چوری کر لیے تھے
تجھ کو چھُو کر بوجھ ہلکا کر لیا ہے
میں خدا کا ہونے ہی والا تھا لیکن
اک بشر نے مجھ کو اپنا کر لیا ہے