ایک ہم نے کام ایسا کر لیا ہے
دوسرا تم پر بھروسہ کر لیا ہے
باغ سے کچھ پھُول چوری کر لیے تھے
تجھ کو چھُو کر بوجھ ہلکا کر لیا ہے
میں خدا کا ہونے ہی والا تھا لیکن
اک بشر نے مجھ کو اپنا کر لیا ہے
زندگی ناساز ہوتی جا رہی ہے
ویسے تم نے مر کے اچھا کر لیا ہے
ایک گھر میں لاش پہنچا کر کسی نے
اپنے گھر کا رزق پورا کر لیا ہے
دانش درانی
No comments:
Post a Comment