Tuesday, 9 March 2021

ایک ہم نے کام ایسا کر لیا ہے

ایک ہم نے کام ایسا کر لیا ہے

دوسرا تم پر بھروسہ کر لیا ہے

باغ سے کچھ پھُول چوری کر لیے تھے

تجھ کو چھُو کر بوجھ ہلکا کر لیا ہے

میں خدا کا ہونے ہی والا تھا لیکن 

اک بشر نے مجھ کو اپنا کر لیا ہے

زندگی ناساز ہوتی جا رہی ہے

ویسے تم نے مر کے اچھا کر لیا ہے

ایک گھر میں لاش پہنچا کر کسی نے

اپنے گھر کا رزق پورا کر لیا ہے


دانش درانی

No comments:

Post a Comment