Showing posts with label واجد امیر. Show all posts
Showing posts with label واجد امیر. Show all posts

Monday, 4 December 2023

دربان شاہ دین ہی دربان نعت ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دربانِ شاہ دین ہی دربانِ نعت ہے

روح الامین یعنی نگہبانِ نعت ہے

صد لاکھ احتیاط کہ عنوانِ نعت ہے

وہ آئے اس طرف جسے ایقانِ نعت ہے

مدحت نگار کے لیے دونوں ہی ایک ہیں

باغِ عدن کے پاس خیابانِ نعت ہے

Friday, 14 April 2023

لفظ بھی نام و نسب رکھتے ہیں یہ جان رکھو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


لفظ بھی نام و نسب رکھتے ہیں یہ جان رکھو

مدح کرنی ہے تو ہر لفظ کی پہچان رکھو

گر سراپا شہِ والاﷺ کا بیاں کرنا ہوں

پاس مشکوات رکھو سامنے قرآن رکھو

نقرئی لوح پہ سب حرف ہوں آبِ زر کے

ایک نقطہ بھی نہ میلا ہو ذرا دھیان رکھو

Thursday, 13 April 2023

رکھ کے لب اسم محمد سے ہٹاتا بھی نہ تھا

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


رکھ کے لب اسمِ محمدﷺ سے ہٹاتا بھی نہ تھا

جب مجھے نامِ نبیﷺ ٹھیک سے آتا بھی نہ تھا

تھام لیتا تھا کوئی وقتِ ملاقات جو ہاتھ

کیسا آقاؐ تھا کبھی ہاتھ چھڑاتا بھی نہ تھا

آپؐ اس کی بھی سُنا کرتے تھے پہروں باتیں

وہ جسے پاس کوئی اپنے بٹھاتا بھی نہ تھا

Wednesday, 7 September 2022

امتحاں اس میں ہوا سب سے جدا خیموں سے

 سلام


امتحاں اس میں ہوا سب سے جدا خیموں سے

ایک خیمہ جو بہت دور نہ تھا خیموں سے

دھوپ رستے میں نمی چھین لیا کرتی تھی

خشک تر ہو کے گزرتی تھی ہوا خیموں سے

جسم کٹ کر جو زمیں پر کوئی آگرتا تھا

انا للہ کی آتی تھی صدا خیموں سے

نعمتیں دیکھ رہی تھیں بڑی حیرانی سے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


نعمتیں دیکھ رہی تھیں بڑی حیرانی سے

روزہ افطار کیا آپﷺ نے جب پانی سے

ہے کوئی اور زمانے میں دکھاؤ تو سہی

جو فقیری کو ملا سکتا ہو سلطانی سے

کیسے ان سخت مراحل سے وہ گزرے ہوں گے

جا کے اندازہ لگا دشت کی ویرانی سے

Friday, 4 March 2022

لفظ بھی نام و نسب رکھتے ہیں یہ جان رکھو

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


لفظ بھی نام و نسب رکھتے ہیں یہ جان رکھو

مدح کرنی ہے تو ہر لفظ کی پہچان رکھو

گر سراپا شہِ والاﷺ کا بیاں کرنا ہوں

پاس مشکواۃ رکھو، سامنے قرآن رکھو

نقرئی لوح پہ سب حرف ہوں آبِ زر کے

ایک نقطہ بھی نہ میلا ہو، ذرا دھیان رکھو

Friday, 23 October 2020

اجڑے دلوں کا کوئی ٹھکانہ بنائیں گے

 اجڑے دلوں کا کوئی ٹھکانہ بنائیں گے

ان بستیوں کو پھر سے پرانا بنائیں گے

اک پل بنا بنایا گزارا نہ جا سکا

اور کہہ رہے ہیں اپنا زمانہ بنائیں گے

پاؤں رہے تو رقص کریں گے کسی کے ساتھ

آنکھیں رہیں تو آئینہ خانہ بنائیں گے

Monday, 16 January 2017

دور ہوتی جاتی ہیں کشتیاں کناروں سے

دور ہوتی جاتی ہیں کشتیاں کناروں سے
اب لپٹ کے روئیں گے پھول شاخساروں سے
تم فقط زمانے کو ساتھ لے کے آئے تھے
ہم اٹھا کے لائے ہیں روشنی کو غاروں سے
پاؤں جم گئے تو کیا، رقص تھم گئے تو کیا
خوشبوئیں تو اٹھتی ہیں وصل کے مزاروں سے

پانی تڑپ کے چیخ اٹھے ایسے جال کھینچ

پانی تڑپ کے چیخ اٹھے ایسے جال کھینچ 
مچھلی اگر نہ آئے سمندر کی کھال کھینچ
رشتوں کے ساتھ بچوں کے جیسا سلوک کر 
غصے سے کان کھینچ، محبت سے گال کھینچ
لا میں زیاں کی آگ میں اس کو بھی جھونک دوں 
جا، دفترِ حیات سے ایک اور سال کھینچ

Friday, 13 January 2017

بیچتے کیا ہو میاں آن کے بازار کے بیچ

بیچتے کیا ہو میاں آن کے بازار کے بیچ
اور انا کاہے کو رکھ چھوڑی ہے بیوپار کے بیچ
اس گھڑی عدل کی زنجیر کہاں ہوتی ہے
جب کنیزوں کو چُنا جاتا ہے دیوار کے بیچ
شہر ہوتا ہے ستاروں کے لہو سے روشن
طشت میں سر بھی پڑے ہوتے ہیں دربار کے بیچ

ابھی آنکھوں میں حیرت ہے بہت ہے

ابھی آنکھوں میں حیرت ہے، بہت ہے
تماشے کی ضرورت ہے، بہت ہے
یہ گھر کا صحن ہے صحرا نہیں ہے
یہاں جتنی بھی وحشت ہے، بہت ہے
کوئی دیکھے تو ہیں مصروف کتنے
کوئی پوچھے کہ فرصت ہے، بہت ہے

Wednesday, 11 January 2017

جیسے دل ہم نے کیا آنکھ میں لا کر پانی

جیسے دل ہم نے کیا آنکھ میں لا کر پانی
اس طرح آگ کو کرتے ہیں بجھا کر پانی
موج کے دوش پہ نکلے تو ہو پر یاد رہے
بہت اونچے سے پٹختا ہے اٹھا کر پانی
خاک در خاک پڑی کتنی ہی تہذیبوں پر
لے گیا کتنی روایات بہا کر پانی

تو نے جس شہر تماشا سے گزارا ہے مجھے

تُو نے جس شہرِ تماشا سے گزارا ہے مجھے 
اس نے ہر بامِ تمسخر سے پکارا ہے مجھے
اب میں چاہوں بھی تو دنیا سے نہیں مل سکتا 
زندگی تُو نے بہت دور اتارا ہے مجھے
منفعت کون سی نفرت سے تمہیں ملتی ہے 
گر محبت میں خسارا ہی خسارا ہے مجھے

محاصل سے پریشانی زیادہ

محاصل سے پریشانی زیادہ
ثمر ہے کم، نگہبانی زیادہ
شجر کو ہے پریشانی زیادہ
ہوا لگتی ہے دیوانی زیادہ
چرا لے جائیں گے شب کے مسافر
نہ کھل اے رات کی رانی زیادہ

Saturday, 7 January 2017

سروں پہ جس گھڑی گرد زمانہ پڑتی ہے

سروں پہ جس گھڑی گردِ زمانہ پڑتی ہے
سفید بالوں کی عزت بچانا پڑتی ہے
یہی تو ہوتا ہے عجلت میں گھر بنانے سے
کہیں کی اینٹ کہیں پر لگانا پڑتی ہے
ذرا قریب سے دیکھو زمین والوں کو
کہ دور سے تو نظر طائرانہ پڑتی ہے

تو نے تلوار اٹھائی نہ لڑائی سے ہوا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

تُو نے تلوار اٹھائی، نہ لڑائی سے ہوا
فتح مکہ ہوا اور صلح صفائی سے ہوا
وہ جو تسخیر نہ ہوتا تھا دلوں کا لشکر
بعد از جنگ اسیروں کی رہائی سے ہوا
کب کوئی نعت تِری شان کے شایان لکھی
مطمئن کب میں تِری مدح سرائی سے ہوا

ہم اپنی انتہا تک آ گئے ہیں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

ہم اپنی انتہا تک آ گئے ہیں
درِ خیرالوریٰ تک آ گئے ہیں
انہیں مژدہ ہو فردوس بریں کا
جو ان کے نقشِ پا تک آ گئے ہیں
حضورؐ اب آپ سے ہم کیا چھپائیں
مسائل ابتلا تک آ گئے ہیں

Wednesday, 4 January 2017

دشت کی ایسی شان کہاں

دشت کی ایسی شان کہاں
دل جیسا ویران کہاں
رشتوں کی پہچان کہاں
اور تم سا نادان کہاں
بھر گیا گھر سب یادوں سے
رکھیں گے سامان کہاں

کافی ہے اک ہو مجھ میں

کافی ہے اک ہُو مجھ میں
کیوں آتا ہے تُو مجھ میں
صحرا سی ویرانی ہے
جنگل سی خوشبو مجھ میں
مجھ کو خود معلوم نہیں
کتنے ہیں پہلو مجھ میں

یار کو اپنے روبرو کیجے

یار کو اپنے روبرو کیجے
آئینہ بن کے گفتگو کیجے
دامن و دل ہیں تار تار اگر
پھر گریبان کیوں رفو کیجے
کھولیۓ عطر بیز زلفوں کو
اور فضاؤں کو مشکبو کیجے