عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دربانِ شاہ دین ہی دربانِ نعت ہے
روح الامین یعنی نگہبانِ نعت ہے
صد لاکھ احتیاط کہ عنوانِ نعت ہے
وہ آئے اس طرف جسے ایقانِ نعت ہے
مدحت نگار کے لیے دونوں ہی ایک ہیں
باغِ عدن کے پاس خیابانِ نعت ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دربانِ شاہ دین ہی دربانِ نعت ہے
روح الامین یعنی نگہبانِ نعت ہے
صد لاکھ احتیاط کہ عنوانِ نعت ہے
وہ آئے اس طرف جسے ایقانِ نعت ہے
مدحت نگار کے لیے دونوں ہی ایک ہیں
باغِ عدن کے پاس خیابانِ نعت ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
لفظ بھی نام و نسب رکھتے ہیں یہ جان رکھو
مدح کرنی ہے تو ہر لفظ کی پہچان رکھو
گر سراپا شہِ والاﷺ کا بیاں کرنا ہوں
پاس مشکوات رکھو سامنے قرآن رکھو
نقرئی لوح پہ سب حرف ہوں آبِ زر کے
ایک نقطہ بھی نہ میلا ہو ذرا دھیان رکھو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
رکھ کے لب اسمِ محمدﷺ سے ہٹاتا بھی نہ تھا
جب مجھے نامِ نبیﷺ ٹھیک سے آتا بھی نہ تھا
تھام لیتا تھا کوئی وقتِ ملاقات جو ہاتھ
کیسا آقاؐ تھا کبھی ہاتھ چھڑاتا بھی نہ تھا
آپؐ اس کی بھی سُنا کرتے تھے پہروں باتیں
وہ جسے پاس کوئی اپنے بٹھاتا بھی نہ تھا
سلام
امتحاں اس میں ہوا سب سے جدا خیموں سے
ایک خیمہ جو بہت دور نہ تھا خیموں سے
دھوپ رستے میں نمی چھین لیا کرتی تھی
خشک تر ہو کے گزرتی تھی ہوا خیموں سے
جسم کٹ کر جو زمیں پر کوئی آگرتا تھا
انا للہ کی آتی تھی صدا خیموں سے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
نعمتیں دیکھ رہی تھیں بڑی حیرانی سے
روزہ افطار کیا آپﷺ نے جب پانی سے
ہے کوئی اور زمانے میں دکھاؤ تو سہی
جو فقیری کو ملا سکتا ہو سلطانی سے
کیسے ان سخت مراحل سے وہ گزرے ہوں گے
جا کے اندازہ لگا دشت کی ویرانی سے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
لفظ بھی نام و نسب رکھتے ہیں یہ جان رکھو
مدح کرنی ہے تو ہر لفظ کی پہچان رکھو
گر سراپا شہِ والاﷺ کا بیاں کرنا ہوں
پاس مشکواۃ رکھو، سامنے قرآن رکھو
نقرئی لوح پہ سب حرف ہوں آبِ زر کے
ایک نقطہ بھی نہ میلا ہو، ذرا دھیان رکھو
اجڑے دلوں کا کوئی ٹھکانہ بنائیں گے
ان بستیوں کو پھر سے پرانا بنائیں گے
اک پل بنا بنایا گزارا نہ جا سکا
اور کہہ رہے ہیں اپنا زمانہ بنائیں گے
پاؤں رہے تو رقص کریں گے کسی کے ساتھ
آنکھیں رہیں تو آئینہ خانہ بنائیں گے