Wednesday, 4 January 2017

کافی ہے اک ہو مجھ میں

کافی ہے اک ہُو مجھ میں
کیوں آتا ہے تُو مجھ میں
صحرا سی ویرانی ہے
جنگل سی خوشبو مجھ میں
مجھ کو خود معلوم نہیں
کتنے ہیں پہلو مجھ میں
کرچی کرچی آئینہ
بکھرا ہے ہر سو مجھ میں
جھلمل رنگوں کی تتلی
جگمگ اک جگنو مجھ میں
دور شجر کی شاخوں کے
پھیلے ہیں بازو مجھ میں
میری آنکھیں دیکھ ذرا
ڈھونڈ کوئی آنسو مجھ میں
جس نے میرا نام رکھا
اس کی ہے خُو بُو مجھ میں
کس کی کھوج میں پھرتا ہے
سانسوں کا آہو مجھ میں
بھر گئی اس کی ایک نگاہ
جادو کا جادو مجھ میں
کسی پپیہا کی پی پی
کوئل کی کُو کُو مجھ میں

واجد امیر

No comments:

Post a Comment