Showing posts with label رضا نقوی. Show all posts
Showing posts with label رضا نقوی. Show all posts

Tuesday, 5 March 2024

شاعر کو اگر آپ کبھی ڈھونڈنا چاہیں

 زعفرانی کلام


شاعر کو اگر آپ کبھی ڈھونڈنا چاہیں

وہ پچھلے پہر فکر کی دلدل میں ملے گا

اور صبح کو آئینہ لیے سامنے اپنے

اشعار تغزل کے ریہرسل میں ملے گا

دن کو وہ جگر گوشۂ بیکاری و افلاس

بستر پہ خیالات کے جنگل میں ملے گا

Saturday, 24 April 2021

خیال یار ہے میں ہوں

 خیالِ یار ہے، میں ہوں

ابھی ہے پیار تو، میں ہوں

وہ جو بے بات ڈرتا ہے

پتا بھی ہے اسے میں ہوں

یقیں تھا ہی نہیں  پھر بھی

وہ کیوں کہتا رہا؛ میں ہوں

Friday, 23 April 2021

اس نے تو بس ملنا چھوڑا

 اُس نے تو بس ملنا چھوڑا

لوگوں نے پھر ککھ ناچھوڑا

ملنا جُلنا مسئلہ تھا

مسئلے میں رہنا چھوڑا

آنکھوں میں اکثر کھو جاتا 

اس کی جانب تکنا چھوڑا

Monday, 16 January 2017

گل نہیں غنچہ نہیں رنگ کے آثار نہیں

گل نہیں، غنچہ نہیں، رنگ کے آثار نہیں
آنکھ کو طاقتِ نظارۂ اشجار نہیں
اب تجھے کیسے دکھائی تیرا باطن دے گا
چشمِ بینا بھی نہیں، روح بھی بیدار نہیں
توڑتا کیوں نہیں وہ بت جو تیرے اندر ہے
خوئے تسلیم کو کیوں جرأتِ انکار نہیں

بات مشکل تھی تو آسان بھی ہو سکتی تھی

بات مشکل تھی تو آسان بھی ہو سکتی تھی
دنیا راحت کدۂ جان بھی ہو سکتی تھی
ظرف کی بات تھی گر ظرف کشادہ ہوتا
آنکھ ساقی کی مہربان بھی ہو سکتی تھی
ہم رہے اپنی اناؤں کے بھنور میں الجھے
ورنہ کچھ رحمتِ یزدان بھی ہو سکتی تھی

یہ جسم کا قصہ ہے نہ پوشاک کا قصہ

یہ جسم کا قصہ ہے نہ پوشاک کا قصہ
انساں ہے فقط آنکھ کا، ادراک کا قصہ 
افہام بھی بے سود ہے تفہیم بھی بے سود
نہ لکھا اگر دیدۂ نمناک کا قصہ
دریا کے کنارے ہوں مگر تشنہ دہن ہوں
ہے خشک بہت دیکھو میری خاک کا قصہ

Friday, 13 January 2017

زمیں کے پار زمانوں کے پار جانا ہے

زمیں کے پار، زمانوں کے پار جانا ہے
مجھے تمہارے جہانوں کے پار جانا ہے
یقیں کے گھوڑے پہ بیٹھا ہوا ہوں روکنا مت
کہ میں نے آج گمانوں کے پار جانا ہے
ازل سےتاک میں بیٹھے ہوئے پیادے نے
تیری بساط کے خانوں کے پار جانا ہے

سب انتہا پہ بیٹھے ہیں میں ابتدا کے بیچ

سب انتہا پہ بیٹھے ہیں، میں ابتدا کے بیچ 
ٹھہرا ہوا ہوں میں تو فقط لا الہ کے بیچ 
تشنہ کسی کو دیکھ کے سکتے میں آ گیا
دریا رکا ہوا ہے میرا کربلا کے بیچ
میں گر چکا ہوں دیکھ لو گھوڑے کی پشت سے
پامال ہو رہا ہوں صفِ اشقیا کے بیچ

میں سادہ لوح وہ ہشیار نکلے

میں سادہ لوح، وہ ہشیار نکلے
میرے بھائی بہت عیار نکلے
میں جن کو اپنا والی جانتا تھا
وہ مجھ کو بیچنے بازار نکلے
علاجِ دردِ دل وہ کیسے کرتے
مسیحا خود بہت بیمار نکلے

Wednesday, 2 September 2015

تمہارا دین مشکل ہے میرا آسان رہنے دو

تمہارا دین مشکل ہے، میرا آسان رہنے دو
خدارا، شیخ! مجھ کو تم فقط انسان رہنے دو
کہانی قصہ گو! مجھ کو جہنم کی سناؤ مت
خدا کی رحمتوں پر تم میرا ایقان رہنے دو
بے چارہ مضمحل دیکھو تہِ جزدان ہوتا ہے
گواہی دو جو دینی ہے، ارے قرآن رہنے دو

موت کے بعد بھی اب لوگوں نے کچھ دن مرنا ہوتا ہے

موت کے بعد بھی اب لوگوں نے کچھ دن مرنا ہوتا ہے
سوئم، دسواں اور چہلم کا خرچہ کرنا ہوتا ہے
بھوکے ننگے لوگ یہاں پر کفن بھی چوری کرتے ہیں
اس ڈر سے اب قبروں کو بھی پکا کرنا ہوتا ہے
کہتے ہیں محبوبہ اپنے یار کی قبر پہ آتی ہے
اوڑھ گلاب کی چادر ہم نے روز سنورنا ہوتا ہے

بدبودار غلیظ اور بھوکے ننگے رہنے والے لوگ

بدبودار، غلیظ اور بھوکے ننگے رہنے والے لوگ
ہم نہ مانیں ہم جیسے ہیں، یہ نیلے اور کالے لوگ
وہ لکھتا ہے پتھر اندر کیڑوں کو میں پالتا ہوں
اس کو لکھو مٹی اوپر رینگتے آ کے پالے لوگ
وہ سجدے کے اندر بس اک سوکھی روٹی مانگتے ہیں
ان کو کافر کہتے ہیں یہ جنت بیچنے والے لوگ

دن سے ہو سکتا ہے کچھ رات سے ہو سکتا ہے

دن سے ہو سکتا ہے کچھ رات سے ہو سکتا ہے
مجھ کو شکوہ بھی تو حالات سے ہو سکتا ہے
آؤ ہم جھانکیں ذرا اپنے گریبان کے بیچ
معاملہ ٹھیک اسی بات سے ہو سکتا ہے
بیٹھ، چائے کی پیالی پہ ذرا بات کریں
فاصلہ کم یہ مساوات سے ہو سکتا ہے