زعفرانی کلام
شاعر کو اگر آپ کبھی ڈھونڈنا چاہیں
وہ پچھلے پہر فکر کی دلدل میں ملے گا
اور صبح کو آئینہ لیے سامنے اپنے
اشعار تغزل کے ریہرسل میں ملے گا
دن کو وہ جگر گوشۂ بیکاری و افلاس
بستر پہ خیالات کے جنگل میں ملے گا
زعفرانی کلام
شاعر کو اگر آپ کبھی ڈھونڈنا چاہیں
وہ پچھلے پہر فکر کی دلدل میں ملے گا
اور صبح کو آئینہ لیے سامنے اپنے
اشعار تغزل کے ریہرسل میں ملے گا
دن کو وہ جگر گوشۂ بیکاری و افلاس
بستر پہ خیالات کے جنگل میں ملے گا
خیالِ یار ہے، میں ہوں
ابھی ہے پیار تو، میں ہوں
وہ جو بے بات ڈرتا ہے
پتا بھی ہے اسے میں ہوں
یقیں تھا ہی نہیں پھر بھی
وہ کیوں کہتا رہا؛ میں ہوں
اُس نے تو بس ملنا چھوڑا
لوگوں نے پھر ککھ ناچھوڑا
ملنا جُلنا مسئلہ تھا
مسئلے میں رہنا چھوڑا
آنکھوں میں اکثر کھو جاتا
اس کی جانب تکنا چھوڑا