سب انتہا پہ بیٹھے ہیں، میں ابتدا کے بیچ
ٹھہرا ہوا ہوں میں تو فقط لا الہ کے بیچ
تشنہ کسی کو دیکھ کے سکتے میں آ گیا
دریا رکا ہوا ہے میرا کربلا کے بیچ
میں گر چکا ہوں دیکھ لو گھوڑے کی پشت سے
کس نے بنایا قتل کو عنوانِ دینِ حق
کس نے ملایا زہر کو آبِ شفا کے بیچ
دونوں طرف ہیں تیری کمائی کے سلسلے
تن کے کھڑا ہے شیخ تو عبد و خدا کے بیچ
چکر تمام عمر کا دو دن میں کٹ گیا
اک دن کٹا تمنا میں دوجا سزا کے بیچ
رضا نقوی
No comments:
Post a Comment