میں سادہ لوح، وہ ہشیار نکلے
میرے بھائی بہت عیار نکلے
میں جن کو اپنا والی جانتا تھا
وہ مجھ کو بیچنے بازار نکلے
علاجِ دردِ دل وہ کیسے کرتے
فصیلِ جان اندر سے ہی ٹوٹی
میرے قاتل میرے معمار نکلے
مٹانے والے مجھ کو دیکھ لو تم
سرِ نیزہ میرے آثار نکلے
تیرا سر بھی سراسر وہم ہے اک
تیرے سر سے اگر دستار نکلے
حکایت اپنی سب سے دلنشیں ہے
روایت سے اگر تلوار نکلے
کھنگالی میں نے دنیا، اہل دانش
جو نکلے تو فقط دو چار نکلے
میری میت ٹٹولی وارثوں نے
میرے کھیسے سے بس اشعار نکلے
رضا نقوی
No comments:
Post a Comment