Showing posts with label رخسار ناظم آبادی. Show all posts
Showing posts with label رخسار ناظم آبادی. Show all posts

Saturday, 11 May 2024

لوگ جو صاحب کردار ہوا کرتے تھے

 لوگ جو صاحبِ کِردار ہُوا کرتے تھے

بس وہی قابلِ دستار ہوا کرتے تھے

یہ الگ بات وہ تھا دورِ جہالت، لیکن

لوگ ان پڑھ بھی سمجھدار ہوا کرتے تھے

سامنے آ کے نبھاتے تھے عداوت اپنی

پیٹھ پیچھے سے کہاں وار ہوا کرتے تھے

Sunday, 26 March 2023

فقط محنت مشقت کا نتیجہ کم نکلتا ہے

 فقط محنت مشقت کا نتیجہ کم نکلتا ہے

دعا جب ماں کی شامل ہو تو پھر زمزم نکلتا ہے

کہیں پر بھی سنبھلنے کی یہ مہلت ہی نہیں دیتا

کنار وقت سے ہر حادثہ اک دم نکلتا ہے

محبت کے سفر میں جب کہیں پر موڑ آ جائے

سنا یہ ہے وہیں سے ہجر کا موسم نکلتا ہے

Friday, 24 March 2023

ترک تعلقات کا وعدہ نہیں کیا

 ترکِ تعلقات کا وعدہ نہیں کیا

وعدہ اگر کِیا اسے پورا نہیں کیا

اک کام تھا ضروری ضروری تھا ایک کام

دل مطمئن نہیں تھا، لہٰذا نہیں کیا

جیسی ملی ہے ویسی گزاری ہے زندگی

ہم نے کہیں بھی جُھوٹا دکھاوا نہیں کیا

Wednesday, 7 December 2022

لوگوں کے پاس درد کی دولت نہیں رہی

لوگوں کے پاس درد کی دولت نہیں رہی

یعنی کسی کو کوئی ضرورت نہیں رہی

مصروف اس قدر کِیا اس کی تلاش نے

مجھ کو تو خود سے ملنے کی فُرصت نہیں رہی

دنیا نے حرف حرف میں تقسیم کر دیا

اب زندگی کسی سے عبارت نہیں رہی

Saturday, 19 March 2022

میں چہرے پر وصیت لکھ رہا ہوں

میں چہرے پر وصیت لکھ رہا ہوں

پسینے سے مشقّت لکھ رہا ہوں

ملی ہے آج فرصت لکھ رہا ہوں

بہت تاخیر سے خط لکھ رہا ہوں

سمے کی دھوپ سے چہرے پر اپنے

ہر اک پل کی اذیت لکھ رہا ہوں

Monday, 22 November 2021

یہ زندگی نئے منظر دکھا رہی ہے مجھے

یہ زندگی نئے منظر دکھا رہی ہے مجھے

خزاں ہے آخری موسم بتا رہی ہے مجھے

ہنسا رہی ہے کبھی یہ رُلا رہی ہے مجھے

غزل مِری ہی کہانی سنا رہی ہے مجھے

وہ ایک شے جو کہ سینے میں ہے کہیں موجود

کسی کے حکم پہ پل پل چلا رہی ہے مجھے

Monday, 1 March 2021

میں کیا کروں یہیں کرنا ہے انتظار مجھے

میں کیا کروں یہیں کرنا ہے انتظار مجھے

اسی جگہ تو ملا تھا وہ پہلی بار مجھے

بساط زیست پہ بازی پلٹ بھی سکتی ہے

ترا نصیب جو مل جائے مستعار مجھے

اسی نے مجھ کو بنا کر سپرد تیرے کیا

ذرا سلیقے سے اے زندگی گزار مجھے