لوگ جو صاحبِ کِردار ہُوا کرتے تھے
بس وہی قابلِ دستار ہوا کرتے تھے
یہ الگ بات وہ تھا دورِ جہالت، لیکن
لوگ ان پڑھ بھی سمجھدار ہوا کرتے تھے
سامنے آ کے نبھاتے تھے عداوت اپنی
پیٹھ پیچھے سے کہاں وار ہوا کرتے تھے
لوگ جو صاحبِ کِردار ہُوا کرتے تھے
بس وہی قابلِ دستار ہوا کرتے تھے
یہ الگ بات وہ تھا دورِ جہالت، لیکن
لوگ ان پڑھ بھی سمجھدار ہوا کرتے تھے
سامنے آ کے نبھاتے تھے عداوت اپنی
پیٹھ پیچھے سے کہاں وار ہوا کرتے تھے
فقط محنت مشقت کا نتیجہ کم نکلتا ہے
دعا جب ماں کی شامل ہو تو پھر زمزم نکلتا ہے
کہیں پر بھی سنبھلنے کی یہ مہلت ہی نہیں دیتا
کنار وقت سے ہر حادثہ اک دم نکلتا ہے
محبت کے سفر میں جب کہیں پر موڑ آ جائے
سنا یہ ہے وہیں سے ہجر کا موسم نکلتا ہے
ترکِ تعلقات کا وعدہ نہیں کیا
وعدہ اگر کِیا اسے پورا نہیں کیا
اک کام تھا ضروری ضروری تھا ایک کام
دل مطمئن نہیں تھا، لہٰذا نہیں کیا
جیسی ملی ہے ویسی گزاری ہے زندگی
ہم نے کہیں بھی جُھوٹا دکھاوا نہیں کیا
لوگوں کے پاس درد کی دولت نہیں رہی
یعنی کسی کو کوئی ضرورت نہیں رہی
مصروف اس قدر کِیا اس کی تلاش نے
مجھ کو تو خود سے ملنے کی فُرصت نہیں رہی
دنیا نے حرف حرف میں تقسیم کر دیا
اب زندگی کسی سے عبارت نہیں رہی
میں چہرے پر وصیت لکھ رہا ہوں
پسینے سے مشقّت لکھ رہا ہوں
ملی ہے آج فرصت لکھ رہا ہوں
بہت تاخیر سے خط لکھ رہا ہوں
سمے کی دھوپ سے چہرے پر اپنے
ہر اک پل کی اذیت لکھ رہا ہوں
یہ زندگی نئے منظر دکھا رہی ہے مجھے
خزاں ہے آخری موسم بتا رہی ہے مجھے
ہنسا رہی ہے کبھی یہ رُلا رہی ہے مجھے
غزل مِری ہی کہانی سنا رہی ہے مجھے
وہ ایک شے جو کہ سینے میں ہے کہیں موجود
کسی کے حکم پہ پل پل چلا رہی ہے مجھے
میں کیا کروں یہیں کرنا ہے انتظار مجھے
اسی جگہ تو ملا تھا وہ پہلی بار مجھے
بساط زیست پہ بازی پلٹ بھی سکتی ہے
ترا نصیب جو مل جائے مستعار مجھے
اسی نے مجھ کو بنا کر سپرد تیرے کیا
ذرا سلیقے سے اے زندگی گزار مجھے