Monday, 19 October 2026

بھوک سے بچے بلکتے ہیں نہ جانے کتنے

 بھُوک سے بچے بِلکتے ہیں نہ جانے کتنے

اور پانی میں بہا دیتے ہیں دانے کتنے

اک تمنّا کا ہوا خُون تو کیا غم اے دوست

دفن ہیں سینے میں ارمان نہ جانے کتنے

کبھی اوروں کی کبھی اپنی حماقت کے طُفیل

ہاتھ آتے رہے ہنسنے کے بہانے کتنے

زندگی ایک حقیقت بھی ہے، افسانہ بھی

ہر گلی کُوچے میں بکھرے ہیں فسانے کتنے

اک گُل تازہ کی تخلیق میں اے گُل چینو

جانے قُدرت نے لُٹائے ہیں خزانے کتنے

میری رُوداد کو سب اپنا فسانہ سمجھے

اک فسانے میں ہیں پوشیدہ فسانے کتنے

حوصلہ بخشا ہے جینے کا انہی خوابوں نے

ہم نے دیکھے ہیں خلش خواب سُہانے کتنے


خلش کلکتوی

رشید الزماں

No comments:

Post a Comment