Friday, 9 October 2026

حسرت دل کو مار کر دیکھا

 حسرت دل کو مار کر دیکھا

بوجھ سارا اتار کر دیکھا

وقت ممکن کہاں گزارے تو

جیسے میں نے گزار کر دیکھا

کوئی میری مدد کو آیا نہیں

میں نے سب کو پکار کر دیکھا

وصل تعبیر ہو نہیں سکتا

ہجر کا خواب مار کر دیکھا

تیری خاطر نہیں جو کرنا تھا

دیکھ لے وہ بھی یار کر دیکھا

وقت ممکن کہاں گزارے تو

جیسے میں نے گزار کر دیکھا

تشنگی کم نہ ہو سکی کوثر

ایک دریا کو پار کر دیکھا


سیدہ کوثر منور شرقپوری

No comments:

Post a Comment