Showing posts with label فرحین چودھری. Show all posts
Showing posts with label فرحین چودھری. Show all posts

Monday, 21 March 2022

محبت یوں اترتی ہے کہیں دل کی منڈیروں پر

 محبت یوں اترتی ہے

کہیں دل کی منڈیروں پر

کہیں پلکوں کی چھایوں میں

کہیں لب پر دعایؤں میں

کہ جیسے چاندنی

خاموش صحرا میں بکھر جائے

Friday, 18 March 2022

دریچوں میں کھڑی دستک

 خواب آسیب


دریچوں میں کھڑی دستک

بھلا یہ رات کی

کیوں کسمساتی ہے

دریچے بند ہیں

ان کو ابھی تو

Thursday, 17 March 2022

ستانا بھی نہیں آیا رلانا بھی نہیں آیا

 ستانا بھی نہیں آیا، رلانا بھی نہیں آیا 

کسی روٹھے ہوئے جی کو منانا بھی نہیں آیا

ذرا سا خواب ٹوٹا تھا ذرا سے ہم بھی ٹوٹے تھے 

انا کا زخم گہرا تھا، دکھانا بھی نہیں آیا

صدا اس کی لیے پھرتی ہے تنہا ریگزاروں میں 

جسے قسموں کو وعدوں کو نبھانا بھی نہیں آیا

Wednesday, 16 March 2022

محبت دل کی دنیا پر اکیلی راج کرتی ہے

 ابھی بھی سوچ لو جاناں

ابھی بھی وقت ہے جاناں 

محبت کے تقاضے اور ہوتے ہیں 

یہ دنیا جاہ و حشمت تخت بھی  

سب پیچ ہوتے ہیں  

محبت دل کی دنیا پر 

Thursday, 3 March 2022

اس چپ کے گہرے پردے میں

 چپ اور چادر


اس چپ کے گہرے پردے میں

چھپ چھپ کے اداسی روتی ہے

کچھ نیندیں بچھڑی رہتی ہیں

کچھ خواب ادھورے سوتے ہیں

اک بھیگی رات کا آنگن ہے