محبت یوں اترتی ہے
کہیں دل کی منڈیروں پر
کہیں پلکوں کی چھایوں میں
کہیں لب پر دعایؤں میں
کہ جیسے چاندنی
خاموش صحرا میں بکھر جائے
محبت یوں اترتی ہے
کہیں دل کی منڈیروں پر
کہیں پلکوں کی چھایوں میں
کہیں لب پر دعایؤں میں
کہ جیسے چاندنی
خاموش صحرا میں بکھر جائے
خواب آسیب
دریچوں میں کھڑی دستک
بھلا یہ رات کی
کیوں کسمساتی ہے
دریچے بند ہیں
ان کو ابھی تو
ستانا بھی نہیں آیا، رلانا بھی نہیں آیا
کسی روٹھے ہوئے جی کو منانا بھی نہیں آیا
ذرا سا خواب ٹوٹا تھا ذرا سے ہم بھی ٹوٹے تھے
انا کا زخم گہرا تھا، دکھانا بھی نہیں آیا
صدا اس کی لیے پھرتی ہے تنہا ریگزاروں میں
جسے قسموں کو وعدوں کو نبھانا بھی نہیں آیا
ابھی بھی سوچ لو جاناں
ابھی بھی وقت ہے جاناں
محبت کے تقاضے اور ہوتے ہیں
یہ دنیا جاہ و حشمت تخت بھی
سب پیچ ہوتے ہیں
محبت دل کی دنیا پر
چپ اور چادر
اس چپ کے گہرے پردے میں
چھپ چھپ کے اداسی روتی ہے
کچھ نیندیں بچھڑی رہتی ہیں
کچھ خواب ادھورے سوتے ہیں
اک بھیگی رات کا آنگن ہے