زخمِ مسیحائی
کب سے خاموش سی گم سم سی یونہی بیٹھی ہوں
سامنے خط ہے تِرا
اور دل کے آنگن میں
موسمِ درد دبے پاؤں چلا آیا ہے
اور زخموں کی فصل اب کے بہت اچھی ہے
زخمِ مسیحائی
کب سے خاموش سی گم سم سی یونہی بیٹھی ہوں
سامنے خط ہے تِرا
اور دل کے آنگن میں
موسمِ درد دبے پاؤں چلا آیا ہے
اور زخموں کی فصل اب کے بہت اچھی ہے