Showing posts with label شبنم رحمٰن. Show all posts
Showing posts with label شبنم رحمٰن. Show all posts

Thursday, 6 May 2021

کب سے خاموش سی گم سم سی یونہی بیٹھی ہوں

 زخمِ مسیحائی


کب سے خاموش سی گم سم سی یونہی بیٹھی ہوں

سامنے خط ہے تِرا

اور دل کے آنگن میں

موسمِ درد دبے پاؤں چلا آیا ہے

اور زخموں کی فصل اب کے بہت اچھی ہے

Sunday, 18 December 2016

بہت مشکل تھا میرے واسطے یہ فیصلہ کرنا

بہت مشکل تھا
میرے واسطے یہ فیصلہ کرنا
کہ جیسے بے گناہ
خود چلتے چلتے دار تک جاۓ
کہ جیسے خود خزاؤں کو
کوئی پیغام بھجواۓ

ان کہے لفظوں کا مدفن

ان کہے لفظوں کا مدفن

وہ دیکھو
دور تک پھیلی ہوئی چھوٹی بڑی قبریں 
کہ جن میں دفن ہیں وہ ساری باتیں 
جو میرے دل کے زنداں سے کبھی باہر نہیں آئیں 
وہ سارے لفظ
جو تم تک پہنچ پانے کی حسرت میں 

Wednesday, 20 April 2016

پرانے خواب کا تاوان

پرانے خواب کا تاوان 

میرے چاروں طرف کتنا
حسیں خوابوں سا منظر ہے
مگر یہ خوشنما منظر
میری آنکھوں کو رعنائی نہیں تکلیف دیتا ہے
کوئی خوشبو بھرا جھونکا

اس حسیں خواب کی تعبیر ملی ہے مجھ کو

تعبیر

اس حسیں خواب کی تعبیر ملی ہے مجھ کو
جو میری آنکھ کی پتلی میں کہیں زندہ تھا
سہمے بچے کی طرح
بند ہونٹوں میں دبی ایک مقدس سی دعا کی مانند
اس حسیں خواب کی تعبیر ملی ہے، لیکن
پھول زخموں کے کھِلے ہیں اتنے

Friday, 5 February 2016

تمہاری یاد میرے دل سے جب گزرتی ہے

تمہاری یاد میرے دل سے جب گزرتی ہے
تو ہولے ہولے کوئی بانسری سی بجتی ہے
جھلسی سوکھتی ان زرد کھیتیوں سے پرے
گھٹا کیوں آج سرِ شام سے برستی ہے
اتر رہی ہے یہ رات میرے آنگن میں
یا بال کھولے کوئی اپسرا اترتی ہے

وقت پھر وار کر نہ جائے کہیں

وقت پھر وار کر نہ جائے کہیں
خواب آنکھوں میں مر نہ جائے کہیں
میری آنکھوں پہ تیرے ہاتھ کا لمس
یہ بھی سپنا بکھر نہ جائے کہیں 
تجھ کو یہ خوف کیوں ہے اے جاناں
تُو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں

میرا چرچا جو گھر گھر میں ہوا ہے

میرا چرچا جو گھر گھر میں ہوا ہے
یہ ناکردہ گناہوں کی سزا ہے
گزارے تھے جو تیرے ساتھ لمحے
میرا دل ان کو اکثر ڈھونڈھتا ہے
ہوئی ہے برہنہ شاخِ تمنا
جدا یوں آخری پتہ ہوا ہے

اک خواب نا تمام کو تعبیر دے گیا

اک خوابِ نا تمام کو تعبیر دے گیا 
یہ کون مجھ کو ریشمی زنجیر دے گیا
ٹکڑے ہوئے ہیں رات کی ناگن کے دیکھیے
دستِ صبح میں کرنوں کی شمشیر دے گیا
وہ نرم نرم لہجہ میں اس کا پکارنا
کتنی میری دعاؤں کو تاثیر دے گیا

معصومیت بھی ہو ہنسی بے ساختہ بھی ہو

معصومیت بھی ہو ہنسی بے ساختہ بھی ہو
اس عہدِ گمشدہ سے کوئی رابطہ بھی ہو
مایوسیوں کے اندھے گھنے جنگلوں کے بیچ 
امید کی کرن کا کوئی راستہ بھی ہو
آنکھوں میں خواب ہونٹوں پہ لے کر دعا کے پھول
اپنے خدا سے کوئی مجھے مانگتا بھی ہو

Tuesday, 13 October 2015

بستی بستی پربت پربت سانجھ جب گہرا جائے ہے

بستی بستی پربت پربت سانجھ جب گہرا جائے ہے
نین جھروکے دِھیرے دِھیرے دِیپ کوئی جل جائے ہے
میرے آنگن کے بیلے میں پھول کھِلے ہوں گے شاید
گھر سے دُور بدیسوں میں بھی خُوشبو مجھ کو آئے ہے
شام  ہوئی اور سارے پنچھی گھر کو اپنے لوٹ گئے
دیکھو مَن کا پاگل پنچھی لَوٹ کے گھر کب آئے ہے

پلکوں پہ اس کے ایک ستارا تھا اور بس

پلکوں پہ اس کے ایک ستارا تھا اور بس
زادِ سفر یہی تو ہمارا تھا اور بس
بنجر سماعتوں کی زمین کیسے کھِل اٹھی
تم نے تو میرا نام پکارا تھا اور بس
میری فصیلِ ذات پہ چھایا کُہر چھٹا
آنکھوں میں اس کے ایک شرارا تھا اور بس