Sunday, 18 December 2016

ان کہے لفظوں کا مدفن

ان کہے لفظوں کا مدفن

وہ دیکھو
دور تک پھیلی ہوئی چھوٹی بڑی قبریں 
کہ جن میں دفن ہیں وہ ساری باتیں 
جو میرے دل کے زنداں سے کبھی باہر نہیں آئیں 
وہ سارے لفظ
جو تم تک پہنچ پانے کی حسرت میں 
کہیں رستے میں ہی دم توڑ بیٹھے ہیں 
یہیں پہ دفن ہیں 
 الفاظ کے وہ قافلے سارے 
میری مجبوریاں قاتل
تیری بینائیاں غافل
اس دشتِ نارسائی میں کہیں شاید
خبر تم کو کبھی بھی ہو نہ پاۓ گی
کہ بے بس خاموشی میری
میرے ان کہے لفظوں کا مدفن ہے 

شبنم رحمٰن

No comments:

Post a Comment