ان کہے لفظوں کا مدفن
وہ دیکھو
دور تک پھیلی ہوئی چھوٹی بڑی قبریں
کہ جن میں دفن ہیں وہ ساری باتیں
جو میرے دل کے زنداں سے کبھی باہر نہیں آئیں
وہ سارے لفظ
کہیں رستے میں ہی دم توڑ بیٹھے ہیں
یہیں پہ دفن ہیں
الفاظ کے وہ قافلے سارے
میری مجبوریاں قاتل
تیری بینائیاں غافل
اس دشتِ نارسائی میں کہیں شاید
خبر تم کو کبھی بھی ہو نہ پاۓ گی
کہ بے بس خاموشی میری
میرے ان کہے لفظوں کا مدفن ہے
شبنم رحمٰن
No comments:
Post a Comment